ملکی معاشی ترقی روزگار دینے کیلئے ناکافی،ہر6میں سے ایک فرد نوکری سے محروم:عالمی بینک
آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی 8.2فیصد رہنے کا خدشہ،زیادہ تر گھرانے طویل عرصے تک آمدنی کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے غربت شرح 29فیصد ہوگئی ، مالی سال 2026ء میں معاشی ترقی 3.7فیصد رہی ، اصلاحات سے ترقی شرح 6.9فیصد تک پہنچ سکتی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) عالمی بینک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ اکتوبر 2026ء کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 36 لاکھ افراد کو روزگار کی ضرورت ہے تاہم موجودہ معاشی ترقی لیبر فورس کے لیے معیاری ملازمتیں پیدا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً ہر چھ میں سے ایک نیا فرد روزگار سے محروم رہ جاتا ہے ۔عالمی بینک کے مطابق 2018ء کے بعد ملک میں ایک کروڑ 77 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں تاہم ان کی اکثریت کم تنخواہ اور کم پیداواری شعبوں میں ہے ۔ 2024ء میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور نوجوانوں پر پڑا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں سماجی تحفظ محدود اور بے روزگاری انشورنس نہ ہونے کے باعث بے روزگاری تشویشناک ہے ۔ زیادہ تر گھرانے طویل عرصے تک آمدنی کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2014ء سے 2024ء تک مجموعی لیبر پیداواری صلاحیت میں سالانہ صرف 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔ آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث ہر سال زیادہ نوجوان روزگار کے قابل ہو رہے ہیں
، جبکہ معاشی ترقی ان کے لیے کافی ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہی۔ مہنگائی اور سست پیداواری ترقی کے باعث حقیقی آمدنی میں کمی ہوئی جس سے غربت کی شرح 2018-19ء کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25ء میں 29 فیصد ہوگئی۔عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2026ء میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ سال 3.2 فیصد تھی۔ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد، زراعت میں 2.9 فیصد اور صنعت میں 3.5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ خدمات کا شعبہ ملک میں 41 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے ۔ مضبوط ترسیلات زر اور ڈالر کی خریداری کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 19.7 ارب ڈالر ہوگئے جو تقریباً 2.6 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔رپورٹ کے مطابق بہتر معاشی انتظام کے باعث ایس اینڈ پی نے جولائی میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی جبکہ موڈیز نے اگست میں سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کردی۔ پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈی میں واپسی کرتے ہوئے اپریل میں 75 کروڑ ڈالر اور ستمبر 2026ء میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے ۔ ٹیکس وصولیوں میں بہتری اور سود کی ادائیگیوں میں کمی کے باعث مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے 5.4 فیصد سے کم ہوکر 2.6 فیصد رہا، جبکہ بنیادی مالی سرپلس 2.9 فیصد تک پہنچ گیا۔
عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی جبکہ مارچ سے جون 2026ء کے دوران یہ اوسط 10.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مئی 2026ء میں مہنگائی 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں شدت آئی۔ مالی سال 2025-26ء میں شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد اور دیہی علاقوں میں 5.4 فیصد رہی۔ گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے بھی غذائی مہنگائی بڑھائی۔رپورٹ کے مطابق فروری سے جون 2026ء کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد، ہائی سپیڈ ڈیزل میں 31 فیصد اور ایل پی جی میں 46 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال 2026-27ء میں مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں صوبائی سطح پر ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا نظام بہتر بنانے ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت، کاروبار دوست ماحول، پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ، جنرل سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی اور نئے این ایف سی ایوارڈ کی سفارش کی گئی ہے ۔ سرکاری اداروں کی نجکاری پر بھی زور دیا گیا ہے جبکہ پی آئی اے کی نجکاری کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے ۔عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال ترقی کی شرح 3.8 فیصد اور 2028ء میں 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک فیصد تک جا سکتا ہے جبکہ قرضوں کا حجم 72.9 فیصد سے کم ہوکر 67.9 فیصد رہنے کی توقع ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔ اس کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجی سرمایہ کاری اور ٹیکس نظام میں بہتری ضروری ہے ۔ عالمی بینک کے ماہرین کے مطابق 2027ء میں سعودی عرب کی ترقی کی شرح 8 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے جبکہ وہاں تیل کی سپلائی چین بحال ہونے سے عالمی مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments