میر رضا کیس:جے آئی ٹی سمیت مزید 2تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل
ڈی آئی جی عرفان بلوچ سربراہ،آئی ایس آئی ودیگر کے نمائندے بھی شامل ہونگے سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو افسران نامزد کرنے کیلئے خطوط ارسال کردئیے محکمہ داخلہ کاسیکرٹری صحت کو بھی خط، محکمہ صحت نے ڈاکٹر اسامہ کو معطل کر دیا
کراچی (محمد اشھد)میر رضا علی کیس میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا آغاز ہوگیا، سندھ حکومت نے پولیس افسران کے خلاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور متعلقہ حکام کے احتساب کے لیے اہم اقدامات کرلیے ۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی، جبکہ پولیس اور محکمہ صحت کے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کے کنوینر ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی عرفان علی بلوچ ہوں گے ، ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، سندھ رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کے نمائندے شامل کیے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو خط لکھ کر 7روز کے اندر نامزد افسران کے نام، عہدے اور رابطہ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک کی سربراہی میں ایک رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے ، جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے ۔کمیٹی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں نامزد افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی، قائدانہ صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات آئی جی سندھ کو پیش کرے گی۔
انسپکٹر غوث کے کردار کی بھی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر آئی جی سندھ کو کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے ۔ ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال، سب انسپکٹر شبیر لغاری، ایس ایچ او کامران قریشی اور انسپکٹر غوث کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کی جائے گی۔ سب انسپکٹر شبیر لغاری کے خلاف برطرفی تک کی تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ایس ایچ او کامران قریشی پر شواہد ختم کرنے میں سہولت کاری کے الزام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ جائے وقوعہ جلانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات ہوں گی۔ پولیس افسران کے حوالے سے کمیشن کے مشاہدات ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو بھی پہنچائے جائیں گے ۔ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے لیے تفتیشی تربیت کا انتظام کرنے ، جبکہ ڈی ایس پی سراج لاشاری اور اے ایس پی ندا جنید سے وضاحت طلب کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ اور ایس پی عثمان سدوزئی کو بھی کمیشن کے ریمارکس سے آگاہ کیا جائے گا۔ اے آئی جی کراچی آزاد خان کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ ہیڈ محرر ذیشان اور پولیس کانسٹیبل محمد عارف کی کارکردگی کو سراہنے اور ان کی تربیت کی سفارش کی گئی ہے ۔
دوسری جانب میر رضا علی کیس میں محکمہ صحت کے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کے خلاف انکوائری کے لیے سینئر افسر مقرر کرنے کی درخواست چیف سیکریٹری سندھ کو ارسال کردی گئی ہے ، جبکہ سیکریٹری صحت طاہر سانگی کو کمیشن کے ان ریمارکس سے آگاہ کیا جائے گا جن میں قیادت اور نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے ۔محکمہ داخلہ سندھ نے سیکریٹری صحت کو میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ کو معطل کرکے ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی اور تربیت کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے ۔ جوڈیشل کمیشن نے محکمہ صحت سندھ کو میڈیکو لیگل ایکٹ کے قواعد بنانے کی ہدایت بھی کی ہے ۔علاوہ ازیں سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے انکوائری کمیٹی کی سربراہی کے لیے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے ایف آئی اے افسر کی نامزدگی طلب کرلی ہے ۔ مجوزہ کمیٹی پولیس افسران کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments