اروناچل پردیش:بھارتی و چینی فورسز میں کئی مقامات پر ٹکراؤ
شمال مشرقی ریاست کے متعدد سرحدی علاقوں میں بھارتی فورسز تعینات چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے :سربراہ آئی ٹی بی پی مودی اصل صورتحال سے آگاہ کریں،اطلاعات تشویشناک :اپوزیشن
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کی خبروں کے درمیان انڈیا اور تبت بارڈر پولیس کے ائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر انڈین اور چینی افواج کا ٹکراؤ ہوا ہے ، جو ان کے بقول اب بھی جاری ہے ۔اطلاعات کے مطابق صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے اروناچل کے کئی سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں انڈین فورسز تعینات کی گئی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب سرکاری سطح پر اروناچل میں حالیہ دنوں میں چینی افواج سے ٹکراؤ کا اعتراف کیا گیا ہے ۔انڈیا کی شمال مشرقی سرحدوں کی نگرانی کرنے والی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سربراہ شتروجیت کپور نے راجستھان میں فورس کی ایک سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے ۔روزنامہ دی ہندونے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں جولائی سے چینی اور انڈین افواج ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں۔
آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے اہلکاروں اور کمانڈوز سے خطاب کرتے ہوئے کہاچین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب شاید زیادہ مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنی صلاحیت میں اضافے اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کیے ہیں۔انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا ہے ۔کانگریس نے ایک بیان میں کہا کہ اطلاعات تشویش ناک ہیں کہ چین اروناچل پردیش کے بعض علاقوں میں مزید اندر تک پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے ۔ مودی حکومت فوری طور پر وضاحت کرے ۔ سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہاچین کے ساتھ سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مکمل حقیقت عوام کو نہیں بتائی جا رہی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments