پی ٹی آئی مشترکہ پارلیمانی پارٹی میں ہنگامہ آرائی ، فیصل امین اور بیرسٹر گوہرمیں جھڑپ
7 گھنٹے طویل اجلاس، 70 سے زائد ارکان شریک، حتمی اعلامیہ اپوزیشن لیڈر زکی منظوری سے مشروط کرنے پر تلخ کلامی،فیصل امین کا واک آؤٹ اپوزیشن لیڈرز کی موجودگی میں دوبارہ اجلاس کا فیصلہ ،قائمہ کمیٹیوں میں واپسی پر اختلاف، قرارداد میں بانی پی ٹی آئی ،بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ
اسلام آباد (وقار علی سید) تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہنگامہ خیز ہو گیا۔ پارلیمانی پارٹی کا اعلامیہ اپوزیشن لیڈرز سے مشروط کرنے پر اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ذرائع کے مطابق سات گھنٹے طویل اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 70 سے زائد ارکان شریک ہوئے ۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی، آئینی اور معاشی صورت حال پر قرارداد منظور کی گئی تاہم قرارداد کے حتمی نکات کو اپوزیشن لیڈرز سے مشروط کرنے پر تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ رکن قومی اسمبلی فیصل امین خان کی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے شدید جھڑپ ہوئی۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے تمام اختیار اپوزیشن لیڈر کو دیا ہے اور حتمی اعلامیہ ان کی منظوری سے جاری ہوگا۔ذرائع کے مطابق فیصل امین طیش میں آ گئے اور کہا کہ جب فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشروط ہیں تو انہیں اجلاس میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ سات گھنٹے اجلاس جاری رہا لیکن فیصلے اب بھی مشروط ہیں۔ فیصل امین نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی سے واک آؤٹ کر دیا۔اجلاس میں ارکان کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی نہیں کر سکتی اور ایسا کرنا بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کے مترادف ہوگا۔ ارکان کی رائے تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد اگر انہیں اس فیصلے پر اعتراض ہوا تو دوبارہ قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دئیے جائیں گے ۔بعدازاں پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ اعلامیہ کی تیاری کے لیے اپوزیشن لیڈرز کی موجودگی میں دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا جس میں فیصلوں کو حتمی شکل دے کر اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔دوسری جانب پارلیمانی پارٹی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں بانی پی ٹی آئی کی قیادت سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی، سپریم کورٹ کی اگست کی ہدایات پر عمل درآمد، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج،خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ۔قرارداد میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر خان کی رہائی، ایم پی او کے تحت گرفتار بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد سمیت دیگر افراد کی رہائی اور 12 گرفتار ارکان قومی اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ 8 فروری کے مینڈیٹ کی بحالی، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments