ایران سے مذاکرات اچھے مرحلے پر ہیں ؛ ٹرمپ: قطری ،پاکستانی ثالث شرائط پر مشاورت کر رہے، ہرمز کو کھولا جاسکتا: عراقچی، موصول خط میں امریکی لہجہ بدل گیا: محسن رضائی
ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ٹیلیفونک رابطہ،ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی پر تبادلہ خیال، نیتن یاہو نے ٹرمپ پر زور دیا انتخابات کے فوری بعد ایران پر حملے کیے جائیں:امریکی میڈیا ہم کسی جلدی میں نہیں، وہ زیادہ قابل اعتبار نہیں ، معاہدہ کرتے ہیں اور پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں،ایران میں ایک یا دو اہداف کو نشانہ بنانا باقی ،چند منٹ لگیں گے :امریکی صدر نئی جنگ طویل ہوسکتی، تنازع کا جغرافیہ مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا:ایرانی فوج ،مذاکرات میں پیش رفت کے خواہاں ، بدترین صورتحال کیلئے بھی تیار ہیں :امارات
واشنگٹن،تہران،دبئی (نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی جا رہی ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے ۔فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ زیادہ قابل اعتبار نہیں ہیں، وہ معاہدہ کرتے ہیں اور پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔قطر میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کسی جلدی میں نہیں ہیں۔ایران پر دوبارہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کیسا احمقانہ سوال ہے ، فرض کریں کہ میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟، میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی، ایئر فورس اور اس کی اسلحہ بنانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بیشتر فوجی صلاحیت اور جوہری پروگرام تباہ کردیا ہے ، تاہم ایک دو اہداف کو مزید نشانہ بنانا باقی ہے ۔ باقی اہداف کو چند منٹ میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کو بھی غیر یقینی قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملوں اور ان کے ممکنہ وقت سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے ۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی اور ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد ایران پر حملے کیے جائیں، جبکہ امریکی صدر مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ان کے نتائج سامنے آنے کا موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ ایران نے امریکا کو دھمکی دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو یہ گزشتہ تنازع سے زیادہ طویل ہوسکتی ہے اور اس کے خاتمے کا فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ نہیں کرسکیں گے ،بھرپور جواب دیں گے ۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اتوار کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ آئندہ جنگ کی مدت اور اختتام کی شرائط امریکی صدر کے اختیار میں نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ طے کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا کہ جنگ کب اور کن شرائط پر ختم ہوگی۔ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں تنازع کا جغرافیہ مغربی ایشیا کے خطے تک محدود نہیں رہے گا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکی تنصیبات، ساز و سامان، افواج اور مفادات، جہاں کہیں بھی قابلِ رسائی ہوں، نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگ گزشتہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے نظرئیے کو محض دفاعی حکمتِ عملی سے جارحانہ حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کا عمل ماضی میں شروع ہو چکا تھا اور حالیہ جنگ میں اس کا عملی اظہار بھی سامنے آیا ہے ۔متحدہ عرب امارات نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سفارتی پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے ۔ اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے اتوار کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے مفاد میں نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سفارتی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے ، تاہم ماضی کی طرح بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امید ہے کہ امریکا موجودہ صورت حال میں عقل مندی کا مظاہرہ کرے گا اور سفارت کاری کو دوسرے راستوں پر ترجیح دے گا۔
عراقچی کے مطابق ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور سفارتی کوششوں کا حتمی نتیجہ امریکا کی جانب سے ایران کے سوالات کے جواب پرمنحصر ہے۔ اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران دفاع اور سفارت کاری، دونوں کے لیے تیار ہے ۔ تاہم یہ فیصلہ واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہو گا۔عراقچی نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار قطر میں ایک ایسی تجویز پر بات چیت کر رہے ہیں، جس کے تحت امریکی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دو دن کے اندر دوبارہ کھولی جا سکتی ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ قطری اور پاکستانی ثالث شرائط پر مشاورت کررہے ،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے ، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے امریکا کی جانب سے ایرانی تجاویز اور سوالات کا جواب ضروری ہے ۔ عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کا عمل جاری ہے ، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ اس کا انحصار دوسرے فریق کے ردعمل پر ہے ۔عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات اور سفارتی معاملات میں اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے ۔کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق عباس عراقچی نے ارکان کو حالیہ علاقائی اور سفارتی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
بریفنگ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفود کے حالیہ دورہ ایران اور ان سے ہونے والی ملاقاتوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن سے موصول ہونے والے خط میں امریکی لہجہ بدل گیا ہے ، اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو ہم امریکا کے سینگ توڑ دیں گے ۔ ایرانی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ اور امریکا کو یہاں سزا نہ دی گئی تو کل کو ہر ملک یہ سوچے گا کہ اگر ہم ایران پر حملہ کریں تو اس کے کوئی نتائج نہیں ہوں گے ۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا خوف پیدا کریں گے تاکہ کوئی بھی ملک بلا جھجک سر اُٹھا کر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے ۔محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے ، تو ہم ا مریکا کے سینگ توڑ دیں گے تاکہ دیکھیں کہ یہ بغیر سینگوں والا بیل دنیا میں کیا کر پاتا ہے ۔ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے جواب کا دائرہ اور وقت دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے ۔کسی بھی جارحیت کا متناسب، فیصلہ کن اور مو ثر جواب دیا جائے گا۔مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی ہے ، جس کا مقصد خلیج فارس میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنا تھا۔ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطوں کے دوران آگے بڑھی۔سفارت کار اس کوشش میں ہیں کہ اس ہفتے ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد لڑائی کے ایک نئے سلسلے کو روکا جا سکے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانوی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس ایم آئی 6 کو مخالف گروہوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے ۔بیان کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی ایک قرارداد کی بنیاد پر اور برطانوی حکومت کے اقدامات کے ردِعمل میں کیا گیا ہے ۔وزارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ برطانوی بحریہ اور رائل ایئر فورس کو تہران کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔یہ اقدام ایران کے جوابی کارروائی کے قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے ، جو امریکا کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے ردعمل میں ہے ۔ٹینکر ٹریکرز نامی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل پر مشتمل ایک کھیپ ساڑھے تین ماہ سمندر میں رہنے کے بعد چین پہنچ گئی ہے ۔کمپنی نے ‘ایکس’ پر ایک پیغام میں کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران سے منسلک ایک ٹینکر چینی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوا ہے ، تاہم کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے صرف رواں سال کے پہلے چھ مہینوں میں 16 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا تیل برآمد کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments