طاقتور اور کمزور کیلئے الگ معیار اپنانا انصاف کے اصولوں کے منافی : حافظ نعیم

 طاقتور اور کمزور کیلئے الگ معیار اپنانا انصاف کے اصولوں کے منافی : حافظ نعیم

اہل غزہ نے شدید مشکلات کے باوجود جس استقامت کا مظاہرہ کیا ، وہ انسانی وقار اور امید کی غیرمعمولی مثال ہے نوجوانوں کو سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کیساتھ اخلاقیات کو مقصد بناناہوگا:استنبول میں خطاب

استنبول،لاہور(نیوزایجنسیاں)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عالمی بحرانوں کے درمیان امت  مسلمہ کا مستقبل مایوسی، خوف اور تقسیم کے بجائے علم، کردار، خوداعتمادی اور عملی جدوجہد سے وابستہ ہے ۔ اسلامی دنیا کے نوجوانوں کو جدید تعلیم، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ اخلاقیات اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے استنبول میں نوجوانوں کی تنظیم یدی ہلال کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سپیچ فورم سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے عالمی بحران اور امت مسلمہ کا مستقبل کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی تعمیر ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوگی جو مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے علم، کردار اور عمل کا راستہ اختیار کریں گے ۔ترکیہ کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کی تعمیر ایک امانت اور ذمہ داری ہے ۔ مخلصانہ تعلیم، بدعنوانی سے انکار، خدمتِ خلق، مظلوموں کی حمایت اور اتحاد کے لیے کی جانے والی ہر چھوٹی کوشش بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے ۔غزہ کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہاں تباہی، جبری بے دخلی، بھوک اور اجتماعی سزا نے عالمی نظام کے اخلاقی دعووں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار اپنانا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

اہل غزہ نے شدید مشکلات کے باوجود جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے وہ انسانی وقار، باہمی تعاون اور امید کی غیرمعمولی مثال ہے ۔ امت مسلمہ کو اپنی شناخت صرف مظلومیت تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اسے ناانصافی، استعماری مظالم، قبضے اور اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ متبادل نظام اور عملی حل بھی پیش کرنے ہوں گے ۔ جدید سائنسی علوم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ سچائی، دیانت، عدل، عاجزی، جرأت اور نظم و ضبط کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔ نوجوان سیاست، قانون، انتظامیہ، صحافت اور شہری تنظیموں میں فعال کردار ادا کریں، بدعنوانی کو مسترد کریں اور آئین، قانون، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کریں۔ استنبول مسلم تاریخ، عثمانی تہذیب اور ایشیا و یورپ کے درمیان رابطے کی ایک اہم علامت ہے ۔ یہاں کی مساجد، مدارس، کتب خانے اور رفاہی ادارے ایمان، علم، عدل اور خدمت کے امتزاج کی یاد دلاتے ہیں۔ تاریخ کا سبق ہے کہ تہذیبوں کا زوال صرف علاقے کھونے سے نہیں بلکہ اپنے مقصد سے دور ہونے کے باعث شروع ہوتا ہے ۔قیادت کی اخلاقی ذمہ داری صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، کاروباری شعبے اور سماجی تحریکوں کو بھی سچائی، اہلیت، امانت اور جواب دہی کے اصول اپنانا ہوں گے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...