ایم پی او کے تحت گرفتاریاں : وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو مقدمات کی سماعت سے روک دیا

ایم پی او کے تحت گرفتاریاں : وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو مقدمات کی سماعت سے روک دیا

آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی کارروائیوں کے علاقہ میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی، ایڈووکیٹ جنرل کے پی،وہاں تو روزانہ 199 کے کئی کیسزآتے ،کیاوہ نہیں سنے گی؟جسٹس عامر اے جی کے اٹھائے گئے قانونی نکات سنجیدہ غور و خوض کے متقاضی ہیں ،7دن میں رپورٹ پیش کی جائے :چیف جسٹس امین الدین کاتحریری حکم،فریقین اوراٹارنی جنرل کونوٹسز

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو تاحکم ثانی ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا۔عدالت نے تمام فریقین سمیت اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو سات دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی کارروائیوں کے علاقہ میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی، ہائیکورٹ 199 کا استعمال نہیں کر سکتی۔جسٹس عامر فاروق نے کہا ہائیکورٹ میں تو روازنہ 199 کے کئی مقدمات آتے ہیں، کیا ہائیکورٹ روازنہ کی بنیاد پر آنے والے مقدمات کو نہیں سنے گی۔ فریقین کے وکیل شاہ فیصل الیاس نے عدالتی حکم پر اعتراض کیا اور مؤقف اپنایا کہ عدالت حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے ہمیں سن لے ، صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جا سکتے ۔چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہمارا حکم پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کر دیں۔

بعدازاں چیف جسٹس امین الدین خان نے پشاور ہائی کورٹ کے مختلف ڈویژن بینچز کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو7روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں اب سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے مسلح افواج کی موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت ایڈووکیٹ جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد آئین کے آرٹیکل 245 کی شق (4)کے تحت کارروائیاں معطل رکھنے کے حکم میں ترمیم پر غور کرے گی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات اہم اور سنجیدہ غور و خوض کے متقاضی ہیں، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے آفتاب عالم کیس کے فیصلے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ،حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صدر مملکت نے 11 اکتوبر 2026ء کو پروکلیمیشن جاری کیا تھا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے گورنر کے ذریعے صوبے کا کنٹرول سنبھالا۔

وفاقی حکومت نے اسی روز آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو سول پاور کی معاونت کے لیے طلب کیا تھا۔ حکم نامے کے مطابق امن و امان کی بحالی کے لیے ایم پی او آرڈیننس 1960ء کی دفعہ 3 کے تحت متعدد افراد کو نظر بند کیا گیا تھا، تاہم پشاور ہائی کورٹ نے آفتاب عالم کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ابتدائی سماعت پر ہی نظر بند افراد کو رہا کر دیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کی تشریح اور اس کے تحت ہائی کورٹ کے اختیار سماعت پر پابندی کی نوعیت اہم آئینی سوالات ہیں جن کا تفصیلی جائزہ اور باضابطہ فیصلہ ضروری ہے ۔تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 245 کی شق (3)محض روایتی قدغن نہیں بلکہ ایک ہنگامی اور عارضی صورتحال سے متعلق ہے ۔ اس کے تحت ہائی کورٹ کے اختیار سماعت پر پابندی صرف اسی وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک مسلح افواج سول پاور کی معاونت کے لیے موجود ہیں۔واضح رہے سہیل آفریدی و دیگر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ،ہائیکورٹ نے اپنے احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا، عبوری حکم کیخلاف خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...