پاکستان زرعی آمدن، جائیداد پر ٹیکس لگائے، حکومتی اداروں میں اصلاحات کرے : آئی ایم ایف
ٹیکس وصولیاں جی ڈی پی کے 15فیصد تک لائیں :ماہیر بینجی، بجلی شعبے کی ڈی ریگولیشن کریں:نوید قمر تجارتی قوانین آسان بنائے جائیں:نمائندہ برطانوی ہائی کمیشن ،عوامی معیار زندگی بہتر کیا جائے ، نمائندہ اقوام متحدہ ،کانفرنس
اسلام آباد (مدثر علی رانا)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان پر صوبائی ٹیکس وصولیاں بڑھانے ،توانائی شعبے اور حکومتی اداروں میں بنیادی اصلاحات کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس نظام، توانائی، تعلیم، حکومتی اداروں اور کاروباری ماحول میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں جبکہ نجی شعبے کو مواقع دینے اور برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ‘‘ترقی کے لیے سب سے اہم اصلاحات’’ کے موضوع پر سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندے ماہیر بینجی نے کہا کہ پاکستان مشکل فیصلوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے تاہم اسے برقرار رکھنے کے لیے مستقل اور مؤثر اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے پانچ اہم ترجیحات میں معاشی استحکام برقرار رکھنے ، وسائل کا بہتر استعمال، کاروباری اخراجات کم کرنے ، ترقی دوست ٹیکس نظام متعارف کرانے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کو شامل کیا۔ماہیر بینجی نے کہا کہ مضبوط ریاست چلانے اور بنیادی عوامی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ٹیکس وصولیاں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)کے کم از کم 15 فیصد تک ہونی چاہئیں جبکہ پاکستان اس ہدف سے کافی پیچھے ہے ۔ صوبوں کو اپنی آمدن بڑھانے کے لیے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس میں یکسانیت پیدا کرنے ، زرعی آمدن اور جائیداد پر مؤثر ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے ، ٹیکس نظام آسان،منصفانہ بنانے ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور ترسیلی نظام جدید بنانے پر بھی زور دیا۔
سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے بجلی کے شعبے کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگی اور ناقص بجلی سے تنگ آکر شمسی توانائی سمیت متبادل ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ حکومت فرسودہ نظام درست کرنے کے بجائے اس کا مالی بوجھ دوسرے صارفین پر منتقل کر رہی ہے ۔ انہوں نے بجلی کے شعبے میں فوری ڈی ریگولیشن اور مسابقتی ماحول پیدا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپنیوں کو مارکیٹ میں آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ستمبر 2027ء میں آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کے بعد پاکستان دوبارہ معاشی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے ۔ حکومت کو موجودہ پروگرام کے دوران ہی پائیدار ترقی کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے کیونکہ آئندہ انتخابات کے قریب اخراجات بڑھنے اور مالی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے تعلیمی نظام میں بھی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ داخلوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے طلبہ کی عملی مہارتوں، تعلیم کے معیار اور روزگار کی ضروریات پر توجہ دی جائے ۔پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ایما شیاوکین فین نے کہا کہ 1990ء کی دہائی سے پاکستان بار بار معاشی ترقی اور بحرانوں کے چکر سے گزر رہا ہے تاہم فی کس آمدن، غربت میں کمی اور عوامی معیار زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں نجی شعبہ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکے ۔برطانوی ہائی کمیشن کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی تقریباً 3.8 فیصد کی حد پر رک جاتی ہے کیونکہ درآمدات برآمدات سے زیادہ ہونے کے باعث زرمبادلہ کی کمی پیدا ہوتی ہے اور ملک دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
انہوں نے برآمدات بڑھانے کے لیے تجارتی قوانین آسان بنانے ، کاروباری سہولتیں فراہم کرنے ، ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے اور برآمد کنندگان کو زرمبادلہ تک بہتر رسائی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ کی قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ اصلاحات کی کامیابی کا اندازہ اعلانات اور مختص بجٹ سے نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی بہتری سے لگایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے معیاری تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ مقررین نے اتفاق کیا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے مضبوط اداروں، بہتر حکمرانی، نجی سرمایہ کاری، معیاری تعلیم اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments