محکمہ سکولز ایجوکیشن کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز
جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب کے لیے الگ الگ محکمے قائم ہونگے
لاہور (محمد حسن رضاسے )صوبائی محکمہ سکول ایجوکیشن کو تین خودمختار علاقائی محکموں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب کے لیے الگ الگ محکمہ سکول ایجوکیشن قائم کیے جائیں گے جن کے اپنے سیکرٹریز، سیکرٹریٹس اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن ہوں گے ۔ دستاویزات کے مطابق اس وقت پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں کے انتظامی معاملات ایک صوبائی محکمہ سکول ایجوکیشن کے تحت چلائے جا رہے ہیں جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرتا ہے ۔ مجوزہ تنظیم نو کے بعد اس مرکزی انتظامی ڈھانچے کو تین الگ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کے محکمہ سکول ایجوکیشن کا مرکزی دفتر ملتان، وسطی پنجاب کا لاہور جبکہ شمالی پنجاب کا راولپنڈی میں قائم کرنے کی تجویز ہے۔
ہر علاقائی محکمہ ایک الگ سیکرٹری کی سربراہی میں کام کرے گا، جبکہ اس کے لیے علیحدہ سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن بھی قائم کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کے علاقائی محکمہ تعلیم میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کی تین ڈویژنز شامل ہوں گی، جن میں مجموعی طور پر 13 اضلاع شامل کئے گئے ہیں۔ وسطی پنجاب کے محکمہ تعلیم کے تحت لاہور، گوجرانوالہ، ساہیوال اور فیصل آباد کی چار ڈویژنز اور 18 اضلاع شامل کرنے کی تجویز ہے ، جبکہ شمالی پنجاب کے محکمہ تعلیم میں راولپنڈی اور سرگودھا کی دو ڈویژنز اور 10 اضلاع شامل کرنے کی تجویز ہے ۔ اس طرح پنجاب کے 41 اضلاع کا تعلیمی انتظام تین علاقائی محکموں میں تقسیم کیا جائے گا۔ دستاویزات میں تینوں مجوزہ علاقائی محکموں کے سکولوں، طلبہ، اساتذہ اور بجٹ کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
جنوبی پنجاب کے علاقائی محکمہ سکول ایجوکیشن کے تحت 12 ہزار 308 سرکاری سکول، 32 لاکھ 40 ہزار 598 طلبہ اور 95 ہزار 606 اساتذہ ہوں گے ۔ مالی سال 2026-27 کے لئے جنوبی پنجاب کے مجوزہ علاقائی محکمہ تعلیم کا مجموعی بجٹ 189 ارب 50 کروڑ روپے ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں 181 ارب 20 کروڑ روپے غیر ترقیاتی جبکہ 8 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ شامل ہے ۔ وسطی پنجاب کے مجوزہ محکمہ سکول ایجوکیشن کے تحت سب سے زیادہ سکول، طلبہ اور اساتذہ آئیں گے ۔ دستاویزات کے مطابق اس خطے میں 15 ہزار 671 سرکاری سکول، 51 لاکھ 22 ہزار 502 طلبہ اور ایک لاکھ 42 ہزار 747 اساتذہ ہوں گے ۔ وسطی پنجاب کے علاقائی محکمہ تعلیم کے لیے مالی سال 2026-27 کا بجٹ 290 ارب 70 کروڑ روپے ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں 273 ارب 40 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اور 17 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔شمالی پنجاب کے مجوزہ محکمہ سکول ایجوکیشن میں 7 ہزار 416 سکول، 18 لاکھ 27 ہزار 933 طلبہ اور 63 ہزار 675 اساتذہ شامل ہوں گے ۔
اس علاقائی محکمہ تعلیم کا مجموعی بجٹ 123 ارب 80 کروڑ روپے ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں 119 ارب 50 کروڑ روپے غیر ترقیاتی جبکہ 4 ارب 40 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ شامل ہے ۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کی تنظیم نو سے متعلق دستاویزات میں پنجاب کے موجودہ تعلیمی نظام کا مجموعی حجم بھی واضح کیا گیا ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن کے براہ راست انتظام میں 35 ہزار 395 سرکاری سکول ہیں، جہاں ایک کروڑ ایک لاکھ 91 ہزار 33 طلبہ زیرتعلیم ہیں اور تین لاکھ دو ہزار 28 اساتذہ تعینات ہیں۔ دستاویزات کے مطابق موجودہ سکول ایجوکیشن سیکرٹریٹ اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں مجموعی طور پر 352 منظور شدہ اسامیاں ہیں، جنہیں تین علاقائی سیکرٹریٹس میں تقسیم کرکے مجموعی تعداد 231 کرنے کی تجویز ہے ۔سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کی موجودہ مجموعی تین اسامیاں برقرار رہیں گی، تاہم ایڈیشنل سیکرٹریز کی تعداد 8 سے بڑھا کر 9، ڈپٹی سیکرٹریز کی تعداد 15 سے بڑھا کر 21 اور سیکشن افسران کی تعداد 38 سے بڑھا کر 42 کرنے کی تجویز ہے ۔ دوسری جانب معاون عملے کی موجودہ 288 اسامیاں کم کرکے 156 کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اس طرح افسران کی 11 نئی اسامیاں شامل ہوں گی جبکہ معاون عملے کی 132 اسامیاں کم کی جائیں گی۔ ہر سیکرٹریٹ میں ایک سیکرٹری، تین ایڈیشنل سیکرٹریز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments