کمرشل ٹائم، اربوں کی سرمایہ کاری:بائیکاٹ کے اثر ات کیاہونگے ؟
پاک انڈیا میچز سب سے زیادہ دیکھے جاتے ، اس کا کمرشل ایئرٹائم انتہائی قیمتی میچ کے ایک منٹ کا کمرشل ایئرٹائم لگ بھگ تین کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہوتا ہے براڈکاسٹرز کیلئے منافع بخش بنانے کیلئے آئی سی سی کو پاک بھارت میچ یقینی بنانا ہوتا پاکستان کے 60میچوں کی نو ملین ڈالر لاگت جبکہ انڈیا کا ایک میچ 8اعشاریہ 1 ملین ڈالر کا
لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستانی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجارت تو دے دی ہے لیکن ساتھ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف اپنا میچ نہیں کھیلے گی۔ آئی سی سی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے متعدد میچز تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میچوں میں سے ایک رہے ہیں اس کا کمرشل ایئرٹائم ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے ۔ کسی بھی ون ڈے میچ میں کمرشل ایئر ٹائم 100 منٹ کے قریب ہوتا ہے جبکہ ٹی ٹونٹی میچ میں یہ دورانیہ 50 منٹ تک کا ہوتا ہے ۔انڈیا کے شہر بنگلورو کی ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزری کمپنی ‘ڈی اینڈ پی ایڈوائزری برانڈز’ کو کمرشل ایئر ٹائم کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے ، منیجنگ ڈائریکٹر سنتوش این نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا پاکستان میچ کے کمرشل ایئر ٹائم کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتاہے ۔اُن کے مطابق ‘نیویارک میں کھیلے گئے انڈیا پاکستان میچ میں 10 سیکنڈ سلاٹ کی قیمت 50 لاکھ تک چلی گئی تھی۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ایک 10 سیکنڈ کے سلاٹ کی قیمت 60 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔’ یعنی ایک منٹ کا کمرشل ایئرٹائم لگ بھگ تین کروڑ 60 لاکھ کے قریب۔
پاکستان کی کمپنی مارشمیلو ایڈورٹائزنگ سے رابطہ کیا تو اس سے منسلک یوسف رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں انڈیا پاکستان میچ کے لیے ایک منٹ کے سلاٹ کی قیمت حالیہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے میچ کے لیے 40 لاکھ تک تھی جبکہ 2019 کے ورلڈ کپ میچ میں یہ قیمت 60 لاکھ تک چلی گئی تھی ۔آئی سی سی ایک ممبرز بورڈ ہے ، آئی سی سی کی جانب سے اپنا کل ریونیو کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں شیئر کیا جاتا ہے اور اس کا تناسب پہلے سے طے ہوتا ہے ۔کرکٹ کے فنانسز پر گہری نظر رکھنے والے ‘پرافٹ’ میگزین سے منسلک صحافی عبداللہ نیازی کے مطابق ‘ 2023 میں پی سی بی کو آئی سی سی کی جانب سے 17 ملین ڈالر کی رقم دی گئی تھی جو تقریباً ساڑھے چار ارب کے آس پاس بنتا ہے ۔ یہ رقم آئی سی سی نے براڈکاسٹنگ ڈیلز اور آئی سی سی ٹورنامنٹس سے کمائی ہوتی ہے اور اسے تمام ممالک میں ایک ماڈل کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ آئی سی سی ٹورنامنٹ کو براڈکاسٹرز کیلئے منافع بخش بنانے کے لیے آئی سی سی کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ یقینی بنانا ہوتا ہے ۔
انڈیا آئی پی ایل کے باعث امیر ترین بورڈ ہے ۔ انڈین بورڈ کی ابھی انڈیا کے میچوں کے لیے براڈکاسٹ ڈیل 720 ملین ڈالر کی ہوئی ہے ، جس میں 88 میچ شامل ہیں یعنی ہر میچ 8اعشاریہ 1 ملین ڈالر کا ہے ۔ اس معاہدے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیریز شامل نہیں ہے ۔اس کے برعکس پاکستان کی اگلے ڈھائی سال کیلئے کی گئی اپنے 60 میچوں کی براڈکاسٹ ڈیل کی کل لاگت لگ بھگ ساڑھے چھ ملین ڈالر ہے جو انٹرنیشنل رائٹس کی رقم ملا کر نو ملین ڈالر کے قریب بنتی ہے ۔ یعنی 60 میچوں کی نو ملین ڈالر کی لاگت اور انڈیا کا ایک میچ 8 اعشاریہ 1 ملین ڈالر کا۔براڈکاسٹنگ ریو نیو کے ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘آج براڈکاسٹنگ ویلیو کے اعتبار سے آئی پی ایل کے ایک میچ کی لاگت 13اعشاریہ 1 ملین ڈالر ہے ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ اپنے پورے سیزن کے 34 میچوں سے اس سے کم کماتی ہے ۔آئی پی ایل کا مقابلہ اب این ایف ایل، این بی اے وغیرہ سے ہے ، کرکٹ میں کسی سے ہے ہی نہیں۔ اس لیے انڈیا کے لیے پاکستان انڈیا میچ کا ہونا یا نہ ہونا زیادہ معنی نہیں رکھتا ہے ۔