خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا کا نیا نقشہ جاری

خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا کا نیا نقشہ جاری

نیو یارک(نیٹ نیوز)ناسا نے سمندری تہہ کا نیا نقشہ جاری کیا ہے ، جو خلا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے ۔یہ نقشہ جدید سیٹلائٹ ‘سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی سیٹلائٹ’ کی مدد سے تیار کیا گیا، جو ناسا اور فرانس کے خلائی ادارے کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

اس کے ذریعے نہ صرف سمندروں بلکہ جھیلوں اور دریاؤں کی سطح کی بلندی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ، جس سے پانی کے نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے ۔ناسا کے مطابق اس مشن کا مقصد رواں دہائی کے اختتام تک دنیا بھر کی سمندری تہہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے ، اس پیش رفت سے صرف سائنسی تحقیق ہی نہیں بلکہ عملی شعبوں میں بھی فائدہ ہوگا۔ سمندری راستوں کی بہتری، نیوی گیشن، زیرِ سمندر کمیونیکیشن کیبلز کی تنصیب، معدنی وسائل کی تلاش اور ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی جیسے شعبوں میں یہ معلومات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں