جنگ رہے اور امن بھی ہو‘ ظلم رہے اور انصاف بھی ہو‘ بم برسیں اور مذاکرات بھی ہوں‘ ایسا ممکن نہیں! امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایک ماہ گزر چکا۔ اس دوران امریکی صدر نے کئی پینترے بدلے مگر جب ایران نے امریکی واسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دیا تو اب ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین مؤقف سامنے آیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی ہونی چاہیے۔امریکی صدر اپنی عادت کے مطابق ایک ہی سانس میں امن کی بھی بات کرتے ہیں اور ہولناک تباہی کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران مذاکرات کیلئے منت سماجت کر رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایرانی لیڈر موت سے خوفزدہ ہیں۔ ایسے جھوٹے طعنوں اور دھمکیوں سے بھلا مذاکرات کیونکر کامیاب ہو سکتے ہیں؟ جب تک امریکی صدر اپنی زباں بندی نہیں کریں گے اس وقت تک جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔ ایرانی اپنی اعلیٰ ترین شخصیات کی شہادتوں سے ہمت وحوصلہ نہیں ہارے بلکہ اس کے برعکس ایرانی حکومت اور عوام ایک نئے جوش وولولے سے سرشار ہو کر دشمن کے خلاف صف آرا ہیں۔ امریکی صدر کو کوئی یہ بات سمجھانے والا نہیں کہ موت یعنی شہادت کی تمنا کرنے والوں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
اس وقت دوطرفہ مذاکرات کیلئے بیک چینل ڈپلومیسی شروع ہو چکی ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ باہمی اعتماد کا ہے۔ ایران کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران دو مرتبہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایران پر حملہ کر چکا‘ اس مرتبہ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کہ وہ بامقصد اور بامعنی مذاکرات کریں گے اور دوبارہ ایران پر جنگ مسلط نہیں کریں گے۔ 17 فروری کو جنیوا میں ایران اور امریکہ کے مابین بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔ عمان کے نہایت زیرک اور مخلص وزیر خارجہ بدر بن حمد کے ذریعے باہمی گفت و شنید سے مذاکرات تقریباً کامیابی سے ہمکنار ہو گئے تھے‘ بس اعلان باقی تھا کہ اچانک 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملہ کر دیا۔ اس پر عمانی وزیر خارجہ نے نہایت دردمندی سے کہا تھا کہ کامیابی سے ہمکنار مذاکرات کے آخری مرحلے پر حملہ قطعی غیر متوقع تھا۔ اس ایک ماہ کے دوران امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر سکولوں‘ ہسپتالوں‘ رہائشی علاقوں اور ایران کی تیل کی تنصیبات اور مراکزِ ترسیل پر بھی حملے کئے۔ اب تک 1930 سے زائد ایرانی شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر کے ذریعے ایران نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کی طرف سے پندرہ نکاتی تجاویز کا باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے۔ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اب ایران کو جواب الجواب کا انتظار ہے۔ دو طرفہ سلسلۂ جنبانی بہتری کا اشارہ ہے۔ خطے میں مستقل امن کیلئے ایران کی کچھ شرائط ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ایران پر حملے روکے جائیں اور اسکی سیاسی وعسکری قیادت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم ہو۔ دوسری‘ ایران پر دوبارہ ایسی کوئی جنگ مسلط نہ کی جائے۔ تیسری‘ جنگ کے نقصانات کا تعین اور اس کی ادائیگی کی ضمانت دی جائے۔ چوتھی‘ خطے کے دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف بھی حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پانچویں ‘ آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری تسلیم کی جائے۔
اس وقت منظر نامہ یہ ہے کہ ایران کیخلاف امریکی واسرائیلی منصوبہ بندی ناکام ہو چکی ہے اور امریکہ اس اعتبار سے بازی ہار چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی اداروں اور وہاں کے عوام کے سامنے اس بے مقصد جنگ کی ادنیٰ ضرورت بھی ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل نے چکنی چپڑی باتیں کر کے امریکہ کو ساتھ ملایا کہ ادھر ہم ایران کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ کریں گے اور اُدھر ایرانی عوام حکومت کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں گے مگر رہبرِ اعلیٰ سیّد علی خامنہ ای اور کلیدی عسکری وسیاسی شخصیات کی شہادت کے بعد اسرائیلی وامریکی اندازوں کے برعکس ساری ایرانی قوم یک جان سو قالب ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کا پلان بی شروع کر دیا جسکے مطابق ایرانی کردوں اور دیگر اقلیتوں کو موجودہ رجیم کیخلاف کھڑا کرنا مقصود تھا اور ساتھ ہی ایران کے خلاف حملوں کو بڑھانا تاکہ سقوطِ تہران ہو جائے مگر یہ منصوبہ بھی بری طرح ناکام ہوا۔ کردوں وغیرہ کی طرف سے خانہ جنگی تو دور کی بات‘ اس کی ابتدا بھی نہ ہو سکی۔ ایسے گروپوں نے خفیہ طور پر بھی سر اٹھانے کی جرأت نہ کی۔جب ایران کی طرف سے اسرائیل اور امریکہ کو اینٹ کا جواب پتھر سے ملا تو انہیں یقین ہو گیا کہ پلان بی کامیاب نہیں ہو سکا۔ پھر امریکہ نے کہا کہ ہم ایران کی بجلی کے نظام کو تباہ کر دیں گے۔ اس پر ایران نے جواب دیا کہ ہم صرف آدھے گھنٹے میں انرجی تنصیبات پر حملے کر کے سارے خلیج میں گھپ اندھیرا کر دیں گے۔ ایران نے اسرائیل کی عسکری وجنگی تنصیبات اور اس کے شہروں میں اتنے بھرپور حملے کئے جس کی اسے توقع ہی نہ تھی۔ اسی طرح خلیج میں امریکہ کی تنصیبات اور اس کے فوجی اڈوں کو بھی ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اِن دنوں امریکہ اور اسرائیل اپنے پلان سی پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ ساری دنیا کے سامنے ہے کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب خلیجی ملکوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا تو عرب ممالک ایران کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے‘ یوں پرانی عرب وعجم کی عصبیت کو ہوا دے کر فریقین ایک دوسرے کی بربادی کو آخری حد تک پہنچا دیں گے اور امریکہ و اسرائیل کھڑے تماشا دیکھیں گے۔ یہ پلان بھی ناکامی سے دوچار ہوتا نظر آ رہا ہے‘ تاہم جمعرات کے روز سعودی عرب نے ایران کے خلاف سخت لب ولہجہ استعمال کیا۔
قارئین کو یہ جان کر یقینا حیرانی ہو گی کہ خلیجی ممالک میں جتنے بھی امریکی عسکری اڈے ہیں اُن کے جملہ اخراجات اربوں ڈالر ماہانہ کی صورت میں عرب ممالک ادا کرتے ہیں۔ مزید حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اڈے عربوں کی نہیں‘ اسرائیل کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اڈے 1979ء میں ایران میں آیت اللہ خمینی کی مذہبی حکومت کا ہوّا دکھا کر قائم کیے گئے تھے۔ اُس وقت بڑے بڑے خلیجی ممالک نے عراق کو ریالوں اور دیناروں سے مسلح کر کے ایران کیخلاف آٹھ سال تک لڑایا۔ بالآخر ایران کیخلاف لڑنیوالے صدام حسین کا امریکہ کے ہاتھوں عبرتناک انجام ہوا۔ اس بار عرب برادران اسرائیلی چال کو سمجھ چکے ہیں اور اس اسرائیلی وامریکی جال میں نہیں پھنسے۔ ایران اس وقت ڈٹ کر کھڑا ہے اور آدھی دنیا کو خلیج سے تیل سپلائی کرنیوالے جہاز آبنائے ہرمز کے سامنے سمندر میں کھڑے ہیں۔ امریکہ نے نیٹو سے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلواؤ مگر یورپ نے انکار کر دیا۔ جاپان اور آسٹریلیا جیسے امریکی اتحادی بھی امریکی جنگ میں کودنے کو تیار نہیں۔ جرمنی کے صدر نے تو ٹرمپ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کی پُرزور مذمت کی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی سپر پاور عالمی تنہائی کا شکار ہو چکی ہے۔
پاکستان‘ ترکیہ اور مصر تیز رفتار مگر خاموش بیک چینل کوششیں کر رہے ہیں کہ جنگ بند ہو جائے۔ میرے خیال میں امریکہ نے اپنی فیس سیونگ کیلئے اپنے چار پانچ نکات کو پھیلا کر پندرہ بنا دیا۔ ایران کے پانچ نکات اور امریکی پندرہ نکات کے درمیان کوئی بڑا فاصلہ نہیں۔ اگر امریکہ نیک نیتی سے کام لے اور دوطرفہ اعتماد سازی ہو جائے تو مذاکرات سے کوئی متفقہ درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے فارمولے کے ذریعے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ گوتریس نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فی الفور ایران پر حملے بند کریں‘ اسی طرح ایران پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہ کرے۔ اس فضا میں مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں گے۔ خطے میں قیام امن کیلئے گوتریس کا پیش کردہ فارمولا بالکل درست ہے کیونکہ جنگ رہے اور امن بھی ہو‘ ایسا ممکن نہیں۔