وال کلاک کے ڈسپلے کا ڈیزائن کب اور کیسے اپنایا گیا

 وال کلاک کے ڈسپلے کا ڈیزائن کب اور کیسے اپنایا گیا

لاہور(نیٹ نیوز)اگر آپ سے پوچھا جائے کہ ایک دن کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے تو یقیناً اس کا جواب 24 گھنٹے ہوگا۔

مگر جب آپ گھڑی یا وال کلاک کو دیکھیں تو آپ کو ہمیشہ ایسا گول ڈسپلے نظر آئے گا جس میں 12 ہندسے دائرے میں دئیے گئے ہیں ۔جب مکینیکل گھڑیوں کو تیار کیا گیا تو ابتدائی گھڑیوں میں سن ڈائل کے وقت بتانے کے نظام کو ہی استعمال کیا گیا، یعنی سورج کی روشنی پر کام کرنے والے سن ڈائل کا نظام ہی اس کے پیچھے ہے ۔مگر جہاں تک 12 نمبروں کے ساتھ نظر آنے والے کلاک ڈسپلے کی بات ہے تو یہ 14 ویں صدی میں سٹینڈرڈ بنا۔ 12 کا ہندسہ سب سے اوپر کیوں ہوتا ہے تو اس کا جواب بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ 12 بجے کا وقت وہ تھا جب دوپہر میں سن ڈائل میں سایہ سب سے مختصر ہوتا تھا، تو ابتدائی کلاک میں اسی تصور کو کسی تبدیلی کے بغیر اپنا لیا گیا اور جب سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...