غیر رجسٹرڈ پاور لومز اور فیک آئی ڈیز کے ذریعے مبینہ ریونیو نقصان کا انکشاف
بعض عناصر مبینہ طور پر ایف بی آر کے ریکارڈ میں فیک آئی ڈیز بنا کر سوتر منڈی میں اربوں کا کاروبار کرتے آئی ڈیز چند ماہ بعد ڈیفالٹ یا ختم کر دی جاتی ہیں، جس کے بعد متعلقہ کاروبار بھی غیر واضح ہو جاتا ہے :ذرائع
فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)ایشیا کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ میں تقریباً 70 فیصد پاور لومز غیر رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔سوتر منڈی کے تاجروں کے ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں تقریباً اڑھائی لاکھ پاور لومز موجود ہیں جن میں شٹل لیس اور انٹر جیٹ لومز کے علاوہ بڑی تعداد میں عام پاور لومز طویل عرصے سے غیر رجسٹرڈ چل رہی ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض عناصر مبینہ طور پر ایف بی آر کے ریکارڈ میں فیک آئی ڈیز بنا کر سوتر منڈی میں اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان جعلی آئی ڈیز کے ذریعے بعض تاجر 3 فیصد ریبیٹ کی صورت میں کروڑوں روپے کے ریفنڈز حاصل کرتے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ آئی ڈیز چند ماہ بعد ڈیفالٹ یا ختم کر دی جاتی ہیں، جس کے بعد متعلقہ کاروبار بھی غیر واضح ہو جاتا ہے ۔مزید ذرائع کے مطابق فیک آئی ڈی ختم ہونے کے بعد بعض کیسز میں ایف بی آر کی جانب سے انکوائری کے دوران دھاگہ سپلائی کرنے والے تاجروں کو بھی مبینہ طور پر غیر قانونی ٹریڈنگ میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔تاجر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مبینہ نظام کے حوالے سے متعدد بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا ہے ، تاہم اب تک مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث غیر رجسٹرڈ پاور لومز اور مبینہ فیک آئی ڈی سسٹم بدستور جاری ہے ، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔