پیشہ ور گداگروں کی بڑھتی سرگرمیاں، شہری اور تاجر پریشان
بیماری، غربت یا دیگر مجبوریوں کا سہارا لے کر لوگوں سے رقم طلب کرتے ہیں
چناب نگر (نامہ نگار)شہر میں دور دراز علاقوں سے آنے والے پیشہ ور گداگروں، خصوصاً خواتین، بچوں اور بچیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں، تاجروں اور خریداروں کے لیے باعث تشویش بن گئی ہے ۔شہریوں کے مطابق صبح سویرے مختلف چوراہوں، بازاروں، گلی محلوں اور تجارتی مراکز میں پیشہ ور گداگر متحرک ہو جاتے ہیں اور بیماری، غربت یا دیگر مجبوریوں کا سہارا لے کر لوگوں سے رقم طلب کرتے ہیں۔تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات متعدد گداگر ایک ہی شخص کو گھیر لیتے ہیں، جس سے نہ صرف خریدار ذہنی کوفت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ جیب تراشی اور نقدی یا پرس چوری جیسے واقعات کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ان کے مطابق اس صورتحال سے بازاروں کا ماحول اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان میں سے متعدد افراد دیگر اضلاع یا صوبوں سے آتے ہیں، جن کی شناخت اور رہائش سے متعلق کوئی واضح معلومات موجود نہیں ہوتیں، جس سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ملزمان تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے ۔اہلِ علاقہ، تاجروں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ پیشہ ور گداگری کی روک تھام، مشکوک افراد کی جانچ پڑتال اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔