واسا، پی ایچ اے کا عدم تعاون، پارک جوہڑ بن گئے
بدبو، کیچڑ اور تعفن نے شہریوں کو صحت مند تفریحی سرگرمیوں سے محروم کر دیا ، جھولوں کے گرد گندا پانی، کیچڑ اور کچرے کے ڈھیر ،مچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )شہر میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے ) اور واسا کے درمیان عدم تعاون کے باعث متعدد پارکس سیوریج کے گندے پانی سے بھر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بدبو، کیچڑ اور تعفن زدہ ماحول نے شہریوں کو صحت مند تفریحی سرگرمیوں سے محروم کر دیا ہے ۔واسا کی غفلت اور پی ایچ اے کی عدم توجہی کے باعث شہر کے مختلف پارکس میں سیوریج کا پانی جمع ہے ۔ مدینہ ٹاؤن کے پوش علاقے میں مدنی پارک سمیت کئی پارکس جوہڑ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ پارکس صفائی، دیکھ بھال اور مناسب انتظامات سے محروم ہیں جبکہ جھولوں کے اردگرد گندا پانی، کیچڑ اور کچرے کے ڈھیر لگے ہونے کے باعث شہریوں اور بچوں کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں رہا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ خوبصورتی پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر پارکس کی ابتر حالت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ پارکس میں گھاس بے ہنگم انداز میں بڑھی ہوئی ہے ، جھاڑیاں اور پودے تراش خراش نہ ہونے کے باعث بدنما منظر پیش کر رہے ہیں، جبکہ پیدل چلنے کے راستے بھی پانی اور کیچڑ کی وجہ سے استعمال کے قابل نہیں رہے ۔شہریوں نے شکایت کی کہ جن پارکس کو تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہ انتظامی غفلت کی تصویر بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صفائی اور تزئین و آرائش پر ہر سال لاکھوں روپے خرچ کرنے کے دعووں کے باوجود عملی صورت حال اس کے برعکس ہے ۔
پارکس میں کھڑے گندے پانی سے مچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، جس سے ڈینگی سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پی ایچ اے سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام پارکس سے فوری طور پر سیوریج کا پانی نکالا جائے ، صفائی ستھرائی کا مؤثر انتظام کیا جائے ، پودوں اور درختوں کی کانٹ چھانٹ کرائی جائے اور جھولوں سمیت دیگر تفریحی سہولتیں بحال کی جائیں تاکہ بچے ، بزرگ اور دیگر شہری صاف، محفوظ اور خوشگوار ماحول میں پارکس سے لطف اندوز ہو سکیں۔اس حوالے سے پی ایچ اے کے منیجنگ ڈائریکٹر دلاور خان نے بتایا کہ پارکس میں سیوریج کا پانی جمع ہونے کے مسئلے پر متعدد بار واسا کو تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے ، مگر واسا کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments