شہری علاقوں سے مویشیوں کی منتقلی کا عمل سست، گندگی

شہری علاقوں سے مویشیوں کی منتقلی کا عمل سست، گندگی

ماحولیاتی آلودگی اور دیگر عوامی مسائل میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے

ٹو بہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )کمشنر فیصل آباد کے واضح احکامات کے باوجود میونسپل کمیٹی حکام کی مبینہ عدم توجہی کے باعث شہری علاقوں سے جانوروں کی منتقلی کا عمل مؤثر طور پر شروع نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں گلی محلوں میں گندگی، تعفن، ماحولیاتی آلودگی اور دیگر عوامی مسائل میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔رہائشی آبادیوں میں گھروں کے باہر اور گلیوں میں مویشی باندھے جانے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، جبکہ انتظامی غفلت کے باعث متعلقہ قانون اور ضوابط پر عملدرآمد بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت نافذ ضوابط کے مطابق شہری حدود میں رہائشی مقامات پر جانور رکھنا ممنوع ہے ۔ متعلقہ شہریوں کو جانور رہائشی علاقوں سے منتقل کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے اندر احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں میونسپل کمیٹی قانونی کارروائی کرتے ہوئے جانوروں کو خود منتقل کرنے کی مجاز ہے۔

جبکہ اس عمل پر آنے والے اخراجات بھی متعلقہ شہری سے وصول کیے جا سکتے ہیں۔شہریوں کے مطابق متعدد رہائشی علاقوں میں گھروں کے باہر گائے ، بھینسیں اور دیگر مویشی باندھے جانے سے گلیوں میں گوبر اور گندا پانی جمع رہتا ہے ، جس سے شدید بدبو اور تعفن پھیل رہا ہے ۔ جانوروں کے فضلے سے اٹھنے والی بدبو کے باعث مکینوں کا گھروں میں رہنا بھی دشوار ہو جاتا ہے ، جبکہ گرمی اور بارش کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مویشیوں کے سڑکوں اور گلیوں میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ موٹر سائیکل سواروں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...