پولیس فرنٹ ڈیسک نظام، بدعنوانیوں کی شکایات
درخواستیں آن لائن کرنے سے قبل مبینہ طور پر ایس ایچ اوز کی منظوری لینے کا انکشاف، متعدد درخواستیں مینوئل نمٹانے اور مبینہ نذرانوں کے مطالبات
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) ڈکیتی، چوری، راہزنی، اغوا، تاوان، بھتہ خوری، لڑائی جھگڑوں اور دیگر سنگین جرائم کا شکار ہو کر انصاف کے حصول کے لیے تھانوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو فوری اور میرٹ پر انصاف کی فراہمی کے لیے قائم کیے گئے فرنٹ ڈیسک کا نظام بھی مبینہ طور پر ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران و ملازمین کے زیر اثر آنے لگا ہے ۔ مختلف جرائم سے متاثرہ شہریوں کی جانب سے فرنٹ ڈیسک پر جمع کروائی جانے والی درخواستوں کو فوری طور پر آن لائن کرنے کے بجائے مبینہ طور پر مینوئل طریقے سے نمٹانے اور اس عمل کے دوران بے ضابطگیوں و مبینہ بدعنوانیوں کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد سمیت پنجاب بھر کے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کرنے کا بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر اور معیاری پولیس سروسز کی فراہمی، درخواستوں کا فوری اندراج اور پولیس کے روایتی سست روی پر مبنی نظام سمیت مبینہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ تھا۔ فرنٹ ڈیسک پر موصول ہونے والی درخواستوں کو آن لائن سسٹم میں درج کیا جاتا تھا تاکہ متعلقہ پولیس افسران ان پر ہونے والی کارروائی کی نگرانی کر سکیں اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنٹ ڈیسک کے نظام کو شفاف رکھنے کے لیے ابتدا میں تھانوں میں تعینات پولیس افسران اور ملازمین کے فرنٹ ڈیسک کے معاملات میں بلاجواز داخلے اور مداخلت پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں مبینہ طور پر ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران و ملازمین نے فرنٹ ڈیسک پر تعینات عملے کو اپنے اثر و رسوخ میں لے لیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اب متعدد تھانوں میں شہریوں کی جانب سے جمع کروائی جانے والی درخواستوں کو آن لائن سسٹم میں درج کرنے سے قبل مبینہ طور پر ایس ایچ او کی منظوری حاصل کی جاتی ہے ، جبکہ بعض درخواستوں کو آن لائن درج کرنے کے بجائے مینوئل طریقے سے نمٹانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث سائلین کو مبینہ طور پر بار بار تھانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جبکہ بعض درخواست گزاروں سے مختلف انداز میں مبینہ نذرانوں کے مطالبات کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ فرنٹ ڈیسک کا مقصد ہی پولیس نظام میں شفافیت، جوابدہی اور فوری انصاف کو یقینی بنانا تھا، لیکن اگر درخواستوں کے اندراج میں بھی مبینہ رکاوٹیں پیدا کی جائیں تو شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹ ڈیسک کے نظام کو حقیقی معنوں میں خودمختار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے ، تھانوں میں تعینات افسران و ملازمین کی غیر ضروری مداخلت روکی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments