12 سال بعد بھی ٹیپا غیرفعال ، ٹریفک مسائل میں اضافہ

12 سال بعد بھی ٹیپا غیرفعال ، ٹریفک مسائل میں اضافہ

گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی،ٹیپا کیلئے مختص ایک کروڑ روپے کے فنڈز بھی استعمال نہ ہوسکے

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) فیصل آباد میں ٹریفک کا دباؤ بڑھتا گیا، سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور شہر پھیلتا گیا، تاہم ٹریفک کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ٹریفک انجینئرنگ اینڈ ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) آج تک فعال نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں 2014ء میں ٹیپا کا افتتاح کیا گیا اور ادارے کے لیے الگ دفتر بھی قائم کیا گیا تھا، تاہم 12 سال گزرنے کے باوجود ٹیپا باقاعدہ طور پر فعال نہیں ہوسکا اور نہ ہی مطلوبہ عملہ تعینات کیا جاسکا۔ٹیپا کا بنیادی کام شہر کے ٹریفک مسائل کا سروے کرنا، سڑکوں، چوکوں، گزرگاہوں اور پارکنگ کی صورتحال کا جائزہ لینا، ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والے مقامات کی نشاندہی کرنا اور ان کے مستقل حل کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے ۔ ٹریفک سگنلز کے مربوط نظام، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے اقدامات، پارکنگ کی ضروریات اور مستقبل میں بڑھنے والے ٹریفک دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے تیار کرنا بھی ٹیپا کی ذمہ داری ہے ،تاہم فیصل آباد میں ٹیپا غیر فعال ہونے کے باعث ٹریفک کے کئی مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے مختلف مقامات پر وقتی بنیادوں پر انتظامات کیے جاتے ہیں۔ شہر کے اہم چوکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک کا بڑھتا دباؤ، بے ہنگم پارکنگ، مختلف مقامات پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں اور سڑکوں کی گنجائش کے مقابلے میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ فیصل آباد کو ایک جامع اور مستقل ٹریفک منصوبے کی ضرورت ہے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی ہدایت پر فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ٹیپا کے لیے ایک کروڑ روپے کے فنڈز بھی مختص کیے گئے تھے ، تاہم ادارے میں مستقل عملہ نہ ہونے کے باعث یہ رقم بھی استعمال نہ ہوسکی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...