کماد کی نئی قسم ایف ڈی پی 254 متعارف کر ا دی گئی
فی ایکڑ 2 ہزار من سے زائد پیداوار اور 12.77 فیصد شوگر ریکوری کی صلاحیت
فیصل آباد (سٹی رپورٹر) کماد پاکستان کی ایک اہم نقد آور فصل ہے اور اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس مقصد کے لیے جدید پیداواری ٹیکنالوجی، ترقی دادہ اور منظور شدہ اقسام کی کاشت، سفارش کردہ شرح بیج و طریقہ کاشت، بروقت بوائی، کھادوں کا متناسب استعمال، ضرورت کے مطابق آبپاشی اور بیماریوں، ضرر رساں کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک ناگزیر ہے ۔ پنجاب میں کماد کی اوسط پیداوار 745 من فی ایکڑ ہے ، جو دنیا کے دیگر ممالک کی اوسط پیداوار 710 من فی ایکڑ کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں مزید اضافے کے لیے منظور شدہ نئی اقسام کا معیاری بیج اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ایگریکلچر فارم ٹریننگ پنجاب ڈاکٹر محمد طارق نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ کماد 2026-27ء کی منظوری کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں احمد نوید احسن، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ، ڈاکٹر محمد شہباز نعیم، ایسوسی ایٹ پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، ڈاکٹر عبدالخالق، سینئر سائنٹسٹ شعبہ کماد، ڈاکٹر محمد کامران، پرنسپل سائنٹسٹ شعبہ کماد، ڈائریکٹر ایگریکلچرل انفارمیشن فیصل آباد ڈاکٹر آصف علی، پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر اخلاق مدثر، ڈاکٹر عبدالمجید، ڈاکٹر محمود الحسن، ترقی پسند کاشتکاروں اور ایڈاپٹو ریسرچ پنجاب کے فیلڈ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں پیداواری منصوبہ کماد 2026-27ء کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں کماد کی کاشت سے برداشت تک کے تمام مراحل، موزوں زمین کا انتخاب و تیاری، آب و ہوا، اقسام، شرح بیج، وقت اور طریقہ کاشت، کھادوں کا متناسب استعمال، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور ضرر رساں کیڑوں و بیماریوں کا تدارک شامل تھے ۔ جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر تفصیلی بحث کے بعد چند نئی سفارشات شامل کرتے ہوئے کماد کے پیداواری منصوبہ 2026-27ء کی منظوری دے دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments