3 سال گزرنے کے بعد میں تحصیل علی پور چٹھہ غیر فعال
علی پور چٹھہ(تحصیل رپورٹر)علی پور چٹھہ تحصیل تاحال غیر فعال، 3 سال بعد بھی انتظامی خلا برقرار، عوام مشکلات کا شکار ہیں ۔
علی پور چٹھہ کو تحصیل کا درجہ ملنے کے تین سال گزرنے کے باوجود تاحال عملی طور پر فعال نہ کیا جا سکا، جو عوامی نمائندوں اور حکومتی عدم توجہی کا واضح ثبوت بن چکا ہے ۔ ضلع وزیرآباد سے منتخب ہونے والے دو ممبرانِ صوبائی اسمبلی اور پنجاب حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود بھی ضلع اور تحصیل کو مکمل طور پر آپریشنل نہ کرنا لاکھوں شہریوں کیلئے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق 14 اکتوبر 2022 کو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے گجرات کو ڈویژن، وزیرآباد کو ضلع اور علی پور چٹھہ کو تحصیل کا درجہ دیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ،بعد ازاں حکومتوں کی تبدیلی اور نگران سیٹ اپ کے باعث اس فیصلے پر عملی پیش رفت روک دی گئی ،
اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے بعد میں ضلع اور تحصیل کا سٹیٹس بحال رکھا لیکن اس کے باوجود نگران دور میں ضلع وزیرآباد میں تعینات ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی نشستیں خالی کرا کے اضافی چارج گوجرانوالہ ڈویژن کے افسر وں کو دے دیا گیا جو تاحال برقرار ہے ۔ انتظامی خلا کے باعث مختلف سرکاری محکموں کا ریکارڈ گجرات اور گوجرانوالہ میں تقسیم ہو چکا ہے جس سے 3 سال گزرنے کے باوجود تذبذب اور غیر یقینی صورتحال ختم نہ ہو سکی۔ اس صورتحال کا خمیازہ لاکھوں شہری بھگت رہے ہیں جنہیں زمینوں کے انتقال، فرد، رجسٹری، ڈومیسائل، پیدائش و اموات کے اندراج، ریونیو، پولیس اور دیگر معمولی نوعیت کے امور کے لیے دوسرے شہروں کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تحصیل علی پور چٹھہ کے غیر فعال ہونے سے تمام سہولتیں خواب بن کر رہ گئی ہیں۔