بھاری ٹیکسوں کیساتھ صنعتیں ترقی نہیں کر سکتیں :صدر چیمبر

بھاری ٹیکسوں کیساتھ صنعتیں ترقی نہیں کر سکتیں :صدر چیمبر

صنعتیں پہلے ہی 61فیصد تک ٹیکس دے رہی ہیں جو خطے میں سب سے زیادہ صنعتوں پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے :دنیا نیوز سے گفتگو

گوجرانوالہ (نیو ز رپورٹر)گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے صدر علی ہمایوں بٹ نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو نئے مالیاتی بجٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ،حکومت اور آرمی چیف کی انتھک کوششوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس استحکام کو تیز رفتار معاشی ترقی میں بدلا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر چیمبر نے حکومت پر زور دیا کہ نئے بجٹ میں کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فکسڈ ٹیکس نظام (FTR)کی تبدیلی سے ملک بھر کے برآمد کنندگان شدید پریشان ہیں ، برآمدات بڑھانے اور تاجروں کی سہولت کیلئے فکسڈ ٹیکس نظام کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

ٹیکسوں کے بھاری بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علی ہمایوں بٹ کا کہنا تھا کہ صنعتوں پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے ۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی صنعتیں پہلے ہی 61فیصد تک ٹیکس دے رہی ہیں جو کہ خطے میں سب سے زیادہ ہے ۔ اتنے بھاری ٹیکسوں کے ساتھ صنعتیں نہ تو ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ہی عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ موجودہ حالات میں ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ صدر گوجرانوالہ چیمبر نے واضح کیا کہ جب تک ٹیکسوں کے نظام کو منصفانہ، متوازن اور معقول نہیں بنایا جاتا، تب تک ملکی معیشت کا پہیہ تیز رفتاری سے نہیں چل سکتا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں