موسمیاتی تبدیلی چیلنج ،نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ،جسٹس سرفراز ڈوگر

 موسمیاتی تبدیلی چیلنج ،نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ،جسٹس سرفراز ڈوگر

کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا قانونی تقاضا ،پیغام

اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سر فراز ڈوگر نے ارتھ آور کے موقع پر خصوصی پیغام میں ملک بھر کے شہریوں، اداروں، کمیونٹیز اور قانونی برادری سے ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے ذخائر کے بچاؤ کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین سال عالمی سطح پر ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سال رہے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ماحول کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (EIA) لینا قانونی تقاضا ہے ، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کر رہی ہے ۔ اس سلسلے میں عدالت میں ایک خصوصی گرین بینچ قائم ہے جو نباتات اور حیوانات کے تحفظ کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے ، جبکہ اسلام آباد میں ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل بھی مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے تدارک کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں