سائبر سکیورٹی پالیسیوں میں خلا، شیڈو آئی ٹی سے اداروں کو خطرات
39فیصد پیشہ ور افراد اپنی کمپنی کی پالیسیوں کو غیر ضروری سمجھتے، کیسپرسکی سروے
اسلام آباد (نامہ نگار) سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں اداروں کی سائبر سیکیورٹی پالیسیوں میں خامیاں اورشیڈو آئی ٹیکا بڑھتا ہوا رجحان اداروں کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ شیڈو آئی ٹی سے مراد غیر مجاز سافٹ ویئر، ڈیوائسز یا سروسز کا بغیر آئی ٹی نگرانی کے استعمال ہے ، جو اب ایک اہم کاروباری خطرہ بن چکا ہے۔ ہائبرڈ ورک ماڈل، کلاؤڈ ٹولز کے بڑھتے استعمال اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پھیلاؤ نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔کاروباری ماحول میں سائبر سکیورٹی: ملازمین کا علم اور رویہکے عنوان سے کیے گئے اس سروے میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں 39فیصد پیشہ ور افراد اپنی کمپنی کی سائبر سکیورٹی پالیسیوں کو غیر ضروری یا غیر موزوں سمجھتے ہیں، جبکہ 8فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے اداروں میں ایسی کوئی پالیسی موجود ہی نہیں یا وہ اس سے لاعلم ہیں۔ سروے کے مطابق 38فیصد پاکستانی جواب دہندگان نے کہا کہ ان کے اداروں میں ذاتی ڈیوائسز کے استعمال سے متعلق کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔