میئر سکھر سے مشیر وزیراعلیٰ کی ملاقات، کچی آبادی مستقلی پرگفتگو
ڈیڑھ لاکھ افراد اپنی چھت کے قانونی، مالکانہ حقوق سے محروم، ارسلان اسلامنوٹیفائیڈ، غیر نوٹیفائیڈ کچی آبادیوں کی قانونی حیثیت، آئندہ کے لائحہ عمل پرگفتگو
سکھر(بیورو رپورٹ)میئر سکھر اور ترجمان حکومتِ سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کی وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے ہیومن سیٹلمنٹ اینڈ کچی آبادی سید نجمی عالم سے سکھر میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں کچی آبادیوں میں رہنے والے شہریوں کے دیرینہ رہائشی مسائل اور انکے پائیدار حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بتایا کہ سکھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کچی آبادیوں میں مقیم ہیں جو برسوں سے اپنی چھت کے قانونی اور مالکانہ حق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدہ معیار پر پورا اترنے والی آبادیوں کے مکینوں کو بلا معاوضہ لیز اور مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں گے تاکہ شہری بلا خوف و خطر اور باعزت طریقے سے اپنے گھروں میں رہ سکیں۔ملاقات میں سکھر کی نوٹیفائیڈ اور غیر نوٹیفائیڈ کچی آبادیوں کی موجودہ صورتحال، قانونی حیثیت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ نوٹیفائیڈ کٹیگری میں نصرت کالونی نمبر 1 تا 4، مخدوم جمانی، آدم شاہ کالونی، شاہ فیصل، بشیرآباد، میر بہار کالونی، اسلام نگر کالونی، بھٹائی نگر کالونی، عیدگاہ کالونی اور سومر شاہ کالونی شامل ہیں، جبکہ غیر نوٹیفائیڈ کٹیگری میں وسپور کالونی، بابن شاہ کالونی، ایگزیبیشن کالونی، نصرت کالونی نمبر 5 اور 6، مکی شاہ کالونی، کمبھار پاڑا، ملٹری کوارٹر، ریجنٹ کالونی، نیو گوٹھ، شمس آباد کالونی، پاک کالونی، نیو پند کالونی E-12، کان نمبر 18 اور 19، پولیس ہیڈ کوارٹر کا علاقہ اور گول ٹکری بھوسہ لائن شامل ہیں۔