حیدر آباد:جنوبی سندھ سے نئی گندم مارکیٹ میں آنے کوتیار

حیدر آباد:جنوبی سندھ سے نئی گندم مارکیٹ میں آنے کوتیار

کٹائی شروع، ایوان زراعت کانرخ 4ہزار روپے من مقرر کرنے کا مطالبہکاشتکاروں سے کم ازکم15لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے ، سید ندیم

حیدر آباد(بیورو رپورٹ)جنوبی سندھ میں گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہو گئی ہے اور نئی گندم مارکیٹ میں آنے کے لیے تیار ہے ۔ ایوانِ زراعت سندھ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رواں سال گندم کا امدادی نرخ کم از کم 4 ہزار روپے فی من مقرر کیا جائے ، 15 مارچ سے صوبے میں گندم خریداری مراکز کھولے جائیں اور کم از کم 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم آبادگاروں سے خریدی جائے ۔اس سلسلے میں ایوانِ زراعت سندھ کے پیٹرن اِن چیف اور مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر سید ندیم قمر نے ایوانِ زراعت سندھ کے ہیڈکوارٹر حیدرآباد سے جاری کردہ پریس بیان میں کہا ہے کہ جنوبی سندھ میں گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہو چکی ہے ۔ ضلع میرپورخاص کے تعلقہ جھڈو، ضلع عمرکوٹ کے تعلقہ کنری اور ضلع بدین کے تعلقہ ٹنڈو باگو میں گندم کی فصل تیار ہو چکی ہے اور مارکیٹ میں آنے کے لیے موجود ہے ۔ انہوں نے وزیرِاعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر گندم کا امدادی نرخ کم از کم 4 ہزار روپے فی من مقرر کیا جائے اور کم از کم 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم سرکاری طور پر آبادگاروں سے خریدی جائے تاکہ ملک میں کسی بھی ممکنہ غذائی تحفظ کے بحران سے بچا جا سکے ۔ اس سال گندم کی کاشت 32 فیصد کم ہوئی، جس سے ملک میں غذائی تحفظ کے بحران کے خدشات ہیں۔ ندیم قمر نے کہا کہ گندم کی کاشت اور قیمتوں کی پالیسی کے حوالے سے اس سال ریکارڈ حد تک کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ، جو نیک شگون نہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں