میرپور خاص میں مبینہ بلیک میلر کے حیران کن انکشافات
فلک شیر جھوٹی خبریں پھیلانے ، افسران کوبلیک میل کرنے میں ملوث،عمران ملک چونا فیکٹری کے قریب فائرنگ واقعہ بھی ڈرامہ، مقصد ایم پی اے کوبدنام کرنا تھا
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)حساس اداروں، پولیس افسران اور سیاسی رہنماؤں کے نام پر بلیک میلنگ کرنے والے گروہ کے گرفتار ملزم عمران ملک نے نئے اور حیران کن انکشافات کیے ہیں،عمران ملک کے بیان کے مطابق فلک شیر شہر میں جھوٹی خبریں پھیلانے اور افسران کو بلیک میل کرنے کا کام کرتا تھا اور وہ اس کے عوض 10 سے 20 فیصد کمیشن لیتا تھا۔ چونا فیکٹری کے قریب فائرنگ کا واقعہ بھی ایک ڈرامہ تھا جس کا ٹھیکہ فلک شیر کو جیرام مالہی نامی ایک بلڈر نے دیا تھا اس منصوبے کے تحت ایم پی اے ہری رام کو سوشل میڈیا پر بدنام کیا گیا اور ان کے بھتیجے سندیپ کے خلاف فائرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا گیا، پبلک اسکول روڈ پر رضا رند پر فائرنگ کا واقعہ بھی فلک شیر کا بنایا ہوا ڈرامہ تھا جس کے تحت حکیم سجاد اور ان کے خاندان کے خلاف جھوٹا کیس درج کیا گیا، عمران ملک نے مزید انکشاف کیا کہ فائرنگ کے ڈرامے کے لیے ایک ٹیکنیشن کے ذریعے گولی کو گرم کرکے جسم میں داخل کیا جاتا تھا جس سے ایکس رے رپورٹ بھی مثبت آتی تھی، اسی طرح شہری علی خان، ذیشان شیخ اور سماجی رہنما فقیر محمد میمن کے بیٹوں کے خلاف بھی جھوٹے مقدمات درج کروا کر فلک شیر نے کروڑوں روپے کمائے عمران ملک نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کے سابق پی اے خالد خان فلک شیر کے قریبی دوست تھے جن کے ساتھ مل کر وہ سیل سرٹیفکیٹس جاری اور زمینوں کے کھاتے تبدیل کرواتا تھا۔ اس کے علاوہ تعلیمی بورڈ کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر کیا، فلک شیر مبینہ طور پر میٹرک کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے 40 سے 50 ہزار روپے جبکہ انٹر کے نتائج کے لیے 70 ہزار سے 1 لاکھ روپے لیتا تھا، جبکہ جعلی سرٹیفکیٹس 3 سے 5 لاکھ روپے میں تیار کیے جاتے تھے ، ایک شہری ببلو مالہی کے لیے بھی جعلی سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا عمران ملک نے سابق ایس ایس پی جیل منور شاہ کی اہلیہ کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے بلوچستان سے جعلی ڈگریاں حاصل کیں اور میرپورخاص میں فلک شیر نے انہیں ایل ایل بی میں داخلہ دلایا جبکہ امتحانات بھی کسی اور سے دلوائے گئے مزید یہ کہ فلک شیر کے ساتھی رضا رند کے خلاف اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع ہوئیں تو فلک شیر نے جعلی آئی ڈیز بنا کر اینٹی کرپشن افسران کو بلیک میل کیا اور تحقیقات رکوا دیں۔