زمین پر قیامتیں گزری ہوں یا دن رات سکون میں گزرے ہوں‘ رمضان اپنی برکتوں کے ساتھ ہر صورت ساتھ آ بیٹھتا ہے اور عید اپنی خوشیوں کے ساتھ ہر حال میں اُتر آتی ہے۔ غزہ کے کھنڈرات ہوں یا دمشق اور حلب کی تباہ شدہ گلیاں۔ آنکھوں میں کتنے ہی آنسو ہوں اور دل میں کتنے ہی زخم‘ رمضان اور عید کا استقبال اسی طرح کھلی بانہوں سے ہوتا ہے۔ امسال رمضان اس حال میں آیا کہ غزہ کی تباہ حال آبادی پر مزید بم برسائے جارہے تھے۔ مشہد‘ شیراز‘ تہران اور اصفہان دھماکوں سے گونج رہے تھے۔ عرب ممالک کی اہم تنصیبات سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور شام ایک نئی خانہ جنگی کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ یہی قیامتیں کیا کم تھیں کہ پاکستان اور افغانستان میں بھی کھلی جنگ شروع ہو گئی۔ عید اس حال میں منائی گئی کہ لبوں سے سسکیاں اور آنکھوں سے آنسو جدا نہیں ہو رہے۔ لیکن کیا آپ نے دیکھا کہ ان ملکوں میں رمضان اور عید کو نظر انداز کردیا گیا ہو؟ کیا آپ کے ذہن میں یہ وہم بھی گزرا کہ شاید اس سال ان ملکوں میں اس رمضان اور عید کا اہتمام نہ ہوا ہو؟
میں سوچ رہا تھا کہ امسال غزہ میں رمضان کیسا گزرا ہوگا‘ اس لیے کہ عالمِ اسلام کی سب تباہیوں میں بدترین تباہی غزہ کی ہے۔ وہ آبادی جس نے اپنے 30ہزار معصوم بچوں سمیت 70سے 80 ہزار پیارے کھو دیے ہوں‘ جنکے گھروں کو بمباری سے زمین کے برابر کر دیا گیا ہو‘ ہر انسانی ضرورت کے راستے بند کردیے گئے ہوں‘ ہسپتال تباہ کردیے گئے ہوں اور دوائیں پہنچنے نہ دی گئی ہوں۔ کوئی سختی ایسی نہ ہو جو دنیا بھر کے سامنے ان مظلوم انسانوں نے نہ جھیلی ہو۔ اگرچہ ان پر اب بھی بمباری بھی کی جا رہی ہے لیکن 2025ء میں جنگ بندی کے بعد کم از کم کسی حد تک وہاں مدد پہنچنی شروع ہو چکی ہے۔ سابقہ برسوں والے رمضان تو گولیوں کی بوچھاڑ میں گزرے تھے اور عید بھی اسی طرح منائی گئی تھی۔ اس سال قدرے سکون ہے لیکن سکون کا مطلب یہ عافیت ہرگز نہیں جو ہمیں آپکو میسر ہے۔ سکون کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں اگنے والی گھاس پھوس‘ جڑی بوٹیوں اور جانوروں کی خوراک سے اپنا پیٹ نہیں بھرنا پڑتا۔ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اپنے گھروں میں آباد ہو گئے ہیں اور معمول کی زندگی شروع ہو چکی ۔ ملبے کے درمیان‘ خالی عمارتوں کے بیچ‘ دراڑوں بھری دیواروں کے سائے میں‘ گری ہوئی چھتوں کے پہلو میں امدادی کارکنوں اور غذا کے انتظار میں خیمے میں زندگی گزارنا کیسا ہو سکتا ہے؟ بچوں کو بلکتے سننا کس طرح کی زندگی ہوتی ہے؟ آپ تصور کرسکتے ہیں؟
لیکن اس حوصلے کی داد دیجیے۔ غزہ کے لوگوں نے رمضان بھی روایتی طریقے سے گزارا اور عید بھی حسبِ روایت منائی۔ ملبے سے اٹی ہوئی سڑکوں اور گلیوں کو انسانی ہاتھوں نے مقدور بھر صاف کیا اور یہیں افطار کیلئے چادریں بچھا لیں۔ بہت سے گھرانوں نے مل کر افطار کیا‘ ان لوگوں کو ساتھ شریک کیا جن کے پاس کچھ نہیں تھا۔ مل کر نمازیں پڑھیں۔ ان میں کوئی گھرانا ایسا نہیں ہے جس کا کوئی پیارا شہید نہ ہوا ہو۔ میں غزہ میں اس عید کی ایک وڈیو دیکھ رہا تھا۔ ایک شہید مسجد کی گری ہوئی چھت کے ساتھ صحن میں جائے نمازیں بچھی ہوئی ہیں اور صفیں بنا لی گئی ہیں۔ جو کچھ میسر ہے ساتھ مل کر کھایا جا رہا ہے۔ ہزار زخموں اور ہزار دکھوں کے ساتھ۔ اپنے پیاروں کا بچھڑنا کوئی معمولی غم ہے؟ اپنی زمین پر بے گھری کا دکھ کوئی چھوٹا دکھ ہے؟
ہم میں سے بیشتر بولنے والے اور لکھنے والے روز مسلمانوں کو طعن و تشنیع کا ہدف بناتے ہیں۔ حکومتوں اور سربراہوں سے لے کر عام مسلمان تک کوئی ہماری زبان اور قلم کے خنجروں سے محفوظ نہیں ہے۔ ہمارا روز کا معمول ہے کہ ہم اپنی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں اور پوری دنیا کو دکھائیں۔ خود احساسِ کمتری کے مارے ہوئے یہ چرب زبان روز یہی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو مزید احساس کمتری میں مبتلا کردیں۔ آپ ان میں سے کسی کے منہ سے مسلمانوں کیلئے کلمۂ خیر نہیں سنیں گے۔ آپ ان میں سے کسی کے قلم سے وہ لفظ نکلتے نہیں دیکھیں گے جو اس استقامت اس بہادری اور اس حوصلے کی داد دیں جو پوری دنیا کے سامنے ہے اور جسے ہم تاریخ میں نہیں‘ لمحۂ موجود میں دیکھ رہے ہیں۔غزہ کے مسلمانوں کی استقامت خاص طور پر اور تمام مسلمانوں کی عزیمت عمومی طور پر تاریخ میں مثال کے طور پر لکھی جانی چاہیے۔ اتنا ظلم کسی اور مذہب کے ماننے والوں پر ہوا ہوتا تو وہ اپنے تہوار‘ اپنی عبادتیں کیا‘ اپنا مذہب بھی چھوڑ چکے ہوتے۔ اس جدید دنیا میں جس میں سب کچھ یہی دنیا اور یہی زندگی ہے‘ مذہب عقیدے اور روایات کی اہمیت کتنوں میں ہے؟ ہے کوئی اور ایسی سخت جان امت؟ ہے کوئی اور ایسی بہادر قوم جو جان دے دیتی ہے لیکن اپنے اثاثے اپنے سینے سے لگائے رکھتی ہے۔ ایسی مثالیں کہاں ملیں گی۔ تاریخ تو کھنگالیے ذرا۔ ہر قوم اپنے مذہب سمیت دو چار صدیوں بعد جذب ہو جایا کرتی ہے۔
سیتھین قوم قبل از مسیح زمانوں میں وہ خانہ بدوش آریائی نسل کی قوم تھی جو آگ‘ آسمان اور زمینی دیوتاؤں کی پوجا کرتی تھی اور اس جنگجو قوم کے سامنے ٹھہرا نہیں جا سکتا تھا۔ ایران سے برصغیر پاک و ہند تک ان کا راج رہا۔ کہتے ہیں کہ راجپوت برادریاں ان کی نسلیں ہیں۔ لیکن کیا آج اس قوم کا کوئی وجود ہے؟ اس کا مذہب کوئی مانتا ہے؟ کہاں گئے سیتھین؟ جن کے ذکر سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ تاریخ کو بھولا نہیں کہ سیکسن قوم پانچویں سے ساتویں صدی کے دوران جرمنی اور ہالینڈ کے علاقوں سے اٹھی اور انہوں نے ہر قوم پر تسلط حاصل کر لیا۔ ان کا ایک پورا مذہب تھا۔ اوڈن‘ تھور‘ تیو اور ایوسٹر ان کے دیوی دیوتا تھے۔ انہوں نے انگلینڈ پر قبضہ کیا اور رفتہ رفتہ ایک اینگلو سیکسن قوم اور کلچر پیدا ہو گیا۔ لیکن آج سیکسن کہاں ہیں؟ ان کا مذہب کہاں ہے؟ وہ مفتوح قوموں کے مذہب اور ثقافت میں ناپید ہو کر رہ گئے۔ لگ بھگ آٹھویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی تک وائی کنگز وہ قد آور اور جنگجو قوم تھی جو ڈنمارک‘ سویڈن‘ ناروے اور سکنڈے نیویا سے اٹھی اور پورے یورپ پر چھا گئی۔ وائی کنگز کا مذہب اور عقائد نورس دیومالا پر مبنی تھے۔ یورپ کا کوئی ملک بشمول انگلینڈ ان کے غلبے سے نہیں بچا۔ ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ لیکن کیا ہوا وائی کنگز کا مذہب؟ کیا ہوئے خود وائی کنگز۔ وہ خود عیسائیت میں ایسے جذب ہوئے کہ آج ان کا یا انکے مذہب کا الگ نام و نشان بھی نہیں۔ تاریخ کو یاد ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاری ایک عذاب کی طرح پوری آباد دنیا پر نازل ہوئے تھے۔ زمین کی کوئی سلطنت کوئی جاگیر ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھی۔ بادشاہتیں ان کے نام سن کر کانپتی تھیں اور شہنشاہ تھرتھراتے تھے۔ یہ تاتاری اور منگول جو ٹڈی دَل کی طرح دنیا بھر پر چھا گئے تھے‘ اپنا مذہب رکھتے تھے۔ آسمان‘ روحیں اور فطری مظاہر ان کے خدا تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب وہ مسلم دنیا پر قابض ہو گئے تو وہاں فاتح کے عقائد کا رواج ہو جاتا۔ لیکن کیا آج کہیں تاتاری مذہب نظر آتا ہے۔ کہیں خود منگول ایک قوم دکھائی دیتے ہیں؟ وہ خود اسلام میں ایسے جذب ہوئے کہ کعبے کو صنم خانے ہی سے اپنے پاسبان مل گئے۔ وہ مسلمان ملک جنہیں انہوں نے تاراج کیا‘ اسی طرح موجود ہیں جیسے وہ پہلے تھے۔ اسلام اسی طرح وہاں جگمگاتا ہے۔ صرف مذہب نہیں‘ اس کے تہوار بھی۔ اس کی عبادتیں بھی۔ خود بھارت میں دیکھ لیجیے۔ ایک بہت بڑے ہندو اکثریتی ملک میں اسلام آیا اور ہر کوشش کے باوجود پھیلتا گیا۔ قدیم ہندو راجاؤں اور مرہٹوں سے آج کے مودی تک‘ جہاں مسلمانوں کو عید کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہو گیا ہے‘ مذہب اور تہوار اسی طرح روشن ہیں۔
اسلامو فوبیا سچ سہی لیکن اصل بڑاسچ وہی ہے جو اَب کھلے عام کہا بھی جا رہا ہے کہ یہ تہذیبوں کی جنگ ہے۔ اگر کسی کو مغالطہ ہے تو دور ہو جانا چاہیے۔ داد بنتی ہے اس حوصلے کیلئے۔ مٹتی اور جذب ہوتی ہوئی قوموں کے بیچ ایسی استقامت‘ ایسی سخت جانی۔ عرفان صدیقی صاحب ! آپ کا شعر یاد آتا ہے
سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہو گا
ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے