جھڈو:رکشوں میں لگے بیہودہ گانے شہریوں کیلئے اذیت کاباعث

جھڈو:رکشوں میں لگے بیہودہ گانے شہریوں کیلئے اذیت کاباعث

صبح سے رات تک چلائے جاتے ہیں، ڈرائیور اذانوں ونماز کا بھی احترام نہیں کرتےنوجوانوں نے موٹر سائیکلیں الٹر کرالیں، ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس خاموش

جھڈو (نمائندہ دنیا)جھڈو میں رکشوں پر لگے ہوئے تیز آواز ساؤنڈ سسٹم پر چلتی ہوئی بے ہودہ گانوں کی ریکارڈنگ نے شہریوں کو اذیت اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ، صبح سے لے کر رات گئے تک یہ رکشے شہر کی سڑکوں اور بازاروں گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں نہ تو مساجد میں ہونے والی اذانوں اور نماز کا احترام ہے نہ ہی ہسپتالوں میں موجود مریضوں اور کاروبار میں مصروف دکانداروں اور گھروں میں موجود بوڑھے ، بیماروں اور بچوں کا خیال ہے جبکہ ان رکشوں پر 90 فیصد کمپنی فٹڈ سائلنسرز بھی ان ڈرائیوروں نے نکال کر تیز آواز پیدا کرنے والے سائلنسرز لگا رکھے ہیں، اکثر رکشوں میں تیز آواز والے پریشر ہارن بھی لگے ہوئے ہیں ان رکشہ ڈرائیوروں نے تو جیسے شہریوں کا سکون برباد کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ، دوسری جانب شہر میں شرپسند نوجوانوں نے اپنے موٹر سائیکلوں کے الیکٹرک سسٹم میں الٹریشن کرا رکھی ہے جس سے موٹر سائیکل کے ایکسیلیٹر بڑھانے سے سائلنسرز میں دھماکے دار پسٹل کے فائر جیسی آواز پیدا ہوتی ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل رہی ہے ، شہر میں ہونے والے یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی پر جھڈو پولیس نے انتہائی ڈھٹائی سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے شکایات کرنے پر بھی پولیس شہر میں ہونے والی ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی روکنے اور شہریوں کو اس عذاب سے نجات دلانے کو تیار نہیں ہے کاروباری حلقوں اور شہریوں نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میرپورخاص سے جھڈو پولیس کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ان رکشاؤں پر لگے یوئے غیر قانونی اور غیر اخلاقی ساؤنڈ سسٹم ضبط کرنے اور شہر میں چلنے والے رکشاؤں اور موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز میں کی گئی الٹریشن ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں