اندرون سندھ گندم کی کٹائی جاری، خریداری مراکز نایاب
کھپرو، پنگریو ودیگر علاقوں کی اوپن مارکیٹ میں قیمت کم ملنے سے کاشتکار طبقہ پریشانبین الصوبائی نقل وحمل پرپابندی سے دیگر صوبوں کے بیوپاری خریداری سے محروم
کھپرو، اندرون سندھ (نمائندگان)کھپرو سمیت زیریں سندھ میں گندم کی نئی فصل کی کٹائی جاری ہے ، تاہم خریداری مراکز نایاب ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا کوئی موثر انتظام نہ ہونے سے وہ فصل اوپن مارکیٹ میں کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ دوسری جانب بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب سے آنے والے بیوپاری بھی خریداری سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی منڈیوں میں گندم کی قیمتیں تیزی سے گرنے لگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں رواں سیزن کے دوران لاکھوں ایکڑ پر کاشت گندم اب کٹائی کے بعد منڈیوں میں پہنچ رہی ہے۔
تاہم سرکاری سطح پر خریداری کے واضح انتظامات نہ ہونے سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ محکمہ خوراک کی جانب سے خریداری مراکز نہ کھلنے کے باعث کاشتکاروں کو نجی خریداروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں گندم کی فی من قیمت 2800 سے 3000 روپے کے درمیان ہے ، جو سرکاری امدادی قیمت 3500 روپے سے کم ہے ، جس کے باعث کاشتکاروں کو فی من 500 سے 700 روپے تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مجموعی طور پر کسانوں کو کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔