سندھ میں آم کے باغات مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں آگئے
میگو ڈائی بیک، سوٹی مولڈ، پاؤڈری میلڈیو اور فروٹ بیماریوں سے درخت کمزورفوری اقدامات نہ کرنے کی صورت میں پیداوار میں نمایاں کمی کاخطرہ، ماہرین
پنگریو (نامہ نگار)سندھ میں آم کے باغات میں مختلف بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ، موسمیاتی تبدیلیوں اور ادارہ جاتی کمزوریوں نے پیداوار کو خطرے میں ڈال دیا۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو چند برسوں میں پیداوار میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 18 سے 20 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے ، جس میں سندھ کا حصہ تقریباً 6 سے 7 لاکھ ٹن ہے ، تاہم رواں سیزن میں ابتدائی اندازوں کے مطابق سندھ میں پیداوار میں 25 سے 40 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ باغات میں پھیلنے والی بیماریاں اور غیر متوازن موسمی حالات ہیں۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ آم کے باغات کو زیادہ نقصان میگو ڈائی بیک، سوٹی مولڈ، پاؤڈری میلڈیو اور فروٹ فلائی جیسے مسائل سے پہنچ رہا ہے ان بیماریوں کے باعث نہ صرف درخت کمزور ہو رہے ہیں بلکہ پھل کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے جس سے مقامی مارکیٹ کے ساتھ برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آئی ہے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، بے وقت بارشیں اور نمی کا غیر متوازن تناسب بیماریوں کے پھیلاؤ کو تیز کر رہا ہے ۔ زرعی تحقیقاتی اداروں کے مطابق درجہ حرارت میں 1 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے آم کے پھول اور پھل دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ کاشتکاروں کی شکایت ہے کہ محکمہ زراعت کی جانب سے بروقت رہنمائی، ادویات اور تکنیکی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔