ملیر ندی میں کچرا پھینکنے ، جلانے پر پابندی عائد
مختلف اداروں کا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ناقابل قبول ،صورتحال گورننس کی ناکامی اور اداروں کے درمیان عدم تعاون کو ظاہر کرتی ہے ،ریمارکسندی میں کچرا جلایا جارہا ہے ،کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی کی جائے گی،سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
کراچی (عبدالحسیب خان) سندھ ہائی کورٹ نے ملیر ندی میں کچرا پھینکنے اور جلانے پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل بینچ نے آئینی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ ملیر ندی اور کورنگی کازوے کے اطراف کسی بھی قسم کا ٹھوس کچرا پھینکنے ، جلانے یا سلگانے پر فوری اور مکمل پابندی ہوگی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایئر فورس آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی، دادابھائی ٹاؤن اور محمود آباد کے مکین شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہیں، جہاں ہزاروں ٹن گھریلو، صنعتی اور طبی فضلہ غیر قانونی طور پر پھینکا اور جلایا جا رہا ہے۔
جس سے ڈائی آکسن، پارہ اور سیسے جیسے مضر صحت مادے فضا میں شامل ہو کر انسانی صحت، خصوصاً بچوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔متعدد شکایات اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود حکام مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ۔ سرکاری اداروں نے موقف اپنایا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا مقررہ لینڈ فل سائٹس تک منتقل کرتا ہے اور جلانے کی کوئی پالیسی نہیں، جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل نے بھی ملیر ندی میں کچرا پھینکنے یا جلانے کی تردید کی۔ دیگر اداروں نے دائرہ اختیار کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ مختلف اداروں کا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ناقابل قبول ہے اور یہ صورتحال گورننس کی ناکامی اور اداروں کے درمیان عدم تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملیر ندی میں کچرا پھینکنے اور جلانے کا عمل جاری ہے ، جو ماحولیاتی تباہی اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ دفعہ 144 کے تحت عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمات درج کیے جائیں۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر قانون کے تحت کارروائی کرے اور ماحولیاتی معیار کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے ۔ عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر تمام متعلقہ اداروں کا اعلیٰ سطح اجلاس طلب کریں تاکہ واضح ذمہ داریاں مقرر کی جائیں اور کچرے کی مؤثر منتقلی کے لیے مربوط نظام بنایا جائے ۔