خلائی ٹیکنالوجی لائیواسٹاک میں انقلاب لا سکتی ،صوبائی وزیر
جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال ناگزیر سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے چراگاہوں کی موثر نگرانی ممکن،محمدعلی ملکانی
کراچی(این این آئی)صوبائی وزیر لائیواسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے عالمی یومِ خلائی پرواز کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی لائیواسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے ، جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سائنسی اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے ۔محمد علی ملکانی نے کہا کہ سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے چراگاہوں کی صورتحال اور مویشیوں کی نقل و حرکت کی موثر نگرانی ممکن ہے ، جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ بیماریوں کی بروقت تشخیص میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گہرے سمندر میں مچھلیوں کے ذخائر کی درست نشاندہی کے لیے خلائی ڈیٹا کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے ، جس سے ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے ۔صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ جدید خلائی معلومات کے بغیر لائیواسٹاک سیکٹر میں خود کفالت کا حصول مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ماہی گیروں کو سمندری طوفانوں اور خراب موسمی حالات سے بروقت آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ، جس سے انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔محمد علی ملکانی نے کہا کہ حکومت لائیواسٹاک سیکٹر کو ڈیجیٹلائز کرنے اور اسے خلائی ڈیٹا سے منسلک کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔