تھر:لیڈیز ٹیچرز نہ ہونے سے والدین بچیاں اسکول بھیجنے سے گریزاں

تھر:لیڈیز ٹیچرز نہ ہونے سے والدین بچیاں اسکول بھیجنے سے گریزاں

بیشتر اسکولوں میں لیڈیز ٹیچرز کم، بعض میں موجود ہی نہیں، تھر ایجوکیشن الائنسضلع میں 3899اسکول،6ہزار 947ٹیچرز، صرف 821خواتین اساتذہ، سی ای

تھرپارکر(نامہ نگار)تھر ایجوکیشن الائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرتاب شیوانی نے تھرپارکر کے اسکولوں کے دورے کے دوران انکشاف کیا کہ ضلع کے بیشتر دیہی علاقوں کے اسکولوں میں خواتین اساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ کئی اسکول مکمل طور پر لیڈیز ٹیچرز سے محروم ہیں، جس کے باعث والدین اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ ریفارم سپورٹ یونٹ سندھ کی سالانہ اسکول شماری رپورٹ 25-2024 کے اعدادوشمار کے مطابق ضلع تھرپارکر میں مجموعی طور پر 3,899 اسکول قائم ہیں جہاں 6,947 اساتذہ تعینات ہیں، تاہم ان میں صرف 821 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ ان میں سے خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد شہری علاقوں کے اسکولوں میں تعینات ہے جبکہ دیہی علاقوں کے بیشتر اسکول خواتین اساتذہ سے محروم ہیں۔

پرتاب شیوانی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ تقرری نظام، جو اساتذہ کی مجموعی تعداد پر مبنی ہے ، صنفی توازن کو نظرانداز کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لڑکیوں کے داخلے اور حاضری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور قدامت پسند معاشروں میں خواتین اساتذہ کی موجودگی والدین کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے ۔ تھرپارکر ضلع میں اسکولوں کے اعدادوشمار کے مطابق 3,426 پرائمری اسکول (89 فیصد)، 116 ایلیمنٹری (3 فیصد)، 223 مڈل (5.8 فیصد)، 71 سیکنڈری (1.8 فیصد) اور صرف 13 ہائر سیکنڈری اسکول (0.3 فیصد) موجود ہیں، جو پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنے میں رکاوٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں