موسمی تبدیلی، منفی اثرکا انسان خود ذمہ دار، وی سی زرعی یونیورسٹی
تدارک بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا، فوری موثر اقدامات ضروری، پروفیسر الطافسندھ سمیت پورا ملک سنگین ماحولیاتی، زرعی چیلنجز کا شکار ہوسکتا ہے ، خطاب
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے خبردار کیا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے بڑے منفی اسباب خود انسان پیدا کر رہے ہیں اور ان کا تدارک بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو سندھ سمیت پورا پاکستان مستقبل میں سنگین ماحولیاتی اور زرعی چیلنجز کا شکار ہو سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم پہلے ہی نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے جبکہ جنگلات کے خاتمے نے قدرتی توازن کو شدید متاثر کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ زرعی یونیورسٹی، ٹنڈوجام کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ گرین ارتھ ایکشن ڈے 2026 کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ تقریب گرین ارتھ ایکشن فانڈیشن اور روٹ ٹو رائز کے اشتراک سے تبدیلی کے دھاگے ، نوجوانوں اور خواتین کو پلاسٹک سے پاک پاکستان کیلئے بااختیار بنانا کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاکستان پر موسمی تبدیلیوں کے اثرات بڑی صنعتی طاقتوں کی سرگرمیوں کے باعث زیادہ شدت سے مرتب ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر سندھ انڈیجینس اینڈ ٹریڈیشنل کرافٹس کمپنی (سِٹکو) کی ڈائریکٹر صوبیہ شیخ نے کہا کہ پلاسٹک اور دیگر غیر کارآمد اشیا کے متبادل کے طور پر دستکاری کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی خواتین ہنرمندوں کو روایتی مہارتوں اور ماحول دوست ہینڈی کرافٹس کی تربیت دی جائے تو روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔