خاتون ایس ایس پی کے بیٹے کی ضمانت منظور

خاتون ایس ایس پی کے بیٹے کی ضمانت منظور

جوڈیشل مجسٹریٹ کا ملزم کو پچاس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم عدالت کی تفتیشی افسر کوتفتیش مکمل کرکے چالان پیش کرنے کی ہدایت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے پولیس اہلکار سے جھگڑے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں خاتون ایس ایس پی کے بیٹے محمد خبیب کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی اور ملزم کو پچاس ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ رات گئے تفتیشی حکام کی جانب سے شخصی ضمانت پر رہا کئے جانے کے بعد ملزم محمد خبیب عدالت میں پیش ہوا۔ ملزم کے وکیل اسامہ گجر ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ جھوٹی اور من گھڑت کہانی پر مبنی ہے اور واقعے کے وقت پیدا ہونے والی صورتحال محض غلط فہمی کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملزم نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور نہ ہی کارِ سرکار میں رکاوٹ ڈالی۔ وکیل صفائی نے نشاندہی کی کہ واقعے کے تقریباً 9 گھنٹوں بعد مقدمہ درج کیا جانا بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

وکیل کے مطابق مقدمے میں شامل تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور ملزم تفتیش میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے ، لہٰذا اسے ضمانت دی جائے ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے پچاس ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم ضمانت کے مچلکے جمع نہیں کرواتا تو اسکو جیل بھیجا جائے جبکہ تفتیشی افسر مقررہ مدت کے دوران تفتیش مکمل کرکے چالان پیش کرے ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم محمد خبیب نے کہا کہ جس مقام پر اسے روکا گیا وہاں کوئی باقاعدہ ناکہ موجود نہیں تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں