امتحانات میں بد انتظامی:چیئرمین میٹرک بورڈ کا استعفیٰ بھی محکمہ جامعات کو موصول
سمری وزیر اعلی کو بھجوارہے ہیں،سیکریٹری بورڈ عباس بلوچ ،محکمہ جاتی انکوائری سے بچنے کے لیے استعفیٰ دیا گیا،ذرائعبورڈ انتظامیہ نے 170 سے زائد امتحانی مراکز میں تبدیلیاں کیں،کمیٹی کی رپورٹ،ناظم امتحانات کو معطل کرنے کی سفارش
کراچی(اسٹاف رپورٹر، این این آئی) میٹرک بورڈ کراچی کے چیئرمین غلام حسین سہو کا استعفیٰ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو موصول ہوگیا ہے ۔ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ عباس بلوچ نے کہا کہ میٹرک بورڈ کراچی اور تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے مستعفی چیئرمینز کے استعفے مل گئے ہیں۔ سمری بناکر وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین میٹرک بورڈ نے اپنے خلاف کی گئی محکمہ جاتی انکوائری کے نتائج سے بچنے کے لیے استعفی دیا، میٹرک کے امتحانات میں بد نظمی و بد انتظامی کے معاملہ پر انکوائری رپورٹ ایک ہفتے سے وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے پاس ہے ۔ وزیر بورڈز اسماعیل راہو کے ہدایت پر قائم کمیٹی نے رپورٹ ایک ہفتے قبل مکمل کی۔ رپورٹ کے مطابق میٹرک امتحانات میں بورڈ انتظامیہ نے 170 سے زائد امتحانی مراکز میں تبدیلیاں کیں، چیئرمین غلام حسین سوہو نے مختلف افراد کے ساتھ مل کر امتحانی مراکز تبدیل کیے ، ایجنٹس منظور سولنگی، عمران بٹ، راجہ فیاض اور معراج علی نے امتحانی مراکز تبدیل کروائے ۔ایجنٹس ہیڈماسٹر محمد علی، ایوب شانی اور عامر مرتضی نے چیئرمین وناظم امتحانات کے ذریعے امتحانی مراکز تبدیل کروائے لہذا امتحانات میں بدانتظامی میں ملوث تمام عہدیداروں کو سخت سزائیں دی جائیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی بورڈ غلام حسین سوہو اور ناظم امتحانات میٹرک بورڈ کراچی احمد خان چھٹو کو فوری معطل کیا جائے ، دونوں افراد کیخلاف اینٹی کرپشن کے ذریعے کرمنل کارروائی کی جائے ، ساتھ ہی بورڈ کے دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری بورڈ نوید گجر کے خلاف ضابطیکی کارروائی پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ڈپٹی کنٹرولرعمران بٹ کو جاری شوکازکے مطابق کارروائی جلد مکمل کر کے انہیں سخت سزا دی جائے ۔اس حوالے سے وزیر بورڈز اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ کسی قسم کا دبا یا سفارش برداشت نہیں کریں گے اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے رپورٹ میں پیش کی گئی تمام سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ امتحانی مراکز کی حتمی فہرست امتحانات سے ایک ماہ قبل جاری کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بورڈز میں خالی اسامیوں پر فوری مستقل تقرریاں کی جائیں اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کا عمل فوری شروع کیا جائے ۔