جائیداد تنازع ،درخواست جرما نہ کے ساتھ مسترد
درخواست گزار عارفہ انجم کو 50 ہزار ہائیکورٹ کلینک میں جمع کرانے کا حکمجعلی سند،غیر مستقل دعوؤں کی بنیاد پردرخواست قابلِ سماعت نہیں،ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں جائیداد کے تنازع سے متعلق نظرثانی درخواست کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کر دیا۔ عدالت نے درخواست گزار عارفہ انجم کو ہدایت کی کہ وہ 50 ہزار روپے کی رقم سندھ ہائیکورٹ کلینک میں جمع کروائیں۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نے ایک ہی جائیداد کے حوالے سے متعدد اور متضاد دعوے پیش کیے ۔ پہلے مؤقف میں کہا گیا کہ 2009 میں سیل ایگریمنٹ کے ذریعے پلاٹس خریدے گئے جبکہ دوسرے مؤقف میں دعویٰ کیا گیا کہ 2008 میں ویلفیئر سوسائٹی نے الاٹمنٹ دی تھی۔
عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ تیسرے مؤقف میں سندھ گوٹھ آباد اسکیم کے تحت جاری ہونے والی سند کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کیا گیا جو پہلے دونوں دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر درخواست گزار واقعی 2008 میں الاٹی تھیں تو پھر 2009 میں انہی پلاٹس کی خریداری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے پیش کی گئی سند کو متعلقہ مختیارکار سندھ گوٹھ آباد اسکیم نے جعلی قرار دیا جس سے دعوے کی قانونی حیثیت مزید کمزور ہو جاتی ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ ثبوت صرف پہلے سے کیے گئے دعووں کو ثابت کرنے کیلئے ہوتے ہیں جبکہ بنیادی قانونی اور حقوق سے متعلق خامیوں کو محض شواہد کے ذریعے دور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متضاد اور غیر مستقل دعوؤں کی بنیاد پر دائر درخواست قابلِ سماعت نہیں۔