میرپور خاص:فہمیدہ کے ورثا نے تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی
رپورٹ نامکمل، حقائق کے منافی قرار، وی سی ودیگر ملزمان بچانے کی کوشش کی گئیآئی جی کاانصاف فراہمی کا وعدہ پورا نہیں ہوا، پریس کانفرنس، جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)نجی یونیورسٹی اور اس سے منسلک میڈیکل کالج میں مبینہ ہراسمنٹ کے بعد خودکشی کرنیوالی طالبہ فہمیدہ لغاری کے ورثا نے آئی جی سندھ کی تشکیل دی گئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے نامکمل اور حقائق کے منافی قرار دیا، میرپورخاص میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقدمے کے مدعی افتخار لغاری اور فہمیدہ لغاری کے والد انتظار لغاری نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر مبینہ ملزم عابد لغاری کی تقرری کے ذمہ دار کالج کے پرنسپل ظفر تنویر نہیں تھے تو پھر اس تقرری کا ذمہ دار کون تھا؟ ان کے مطابق اس کا ذمہ دار یقینا چانسلر ڈاکٹر سید رضی محمد ہیں لیکن انہیں ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایک جانب عابد لغاری کو ان کوالیفائیڈ ڈاکٹر قرار دیا گیا جبکہ دوسری جانب یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ کالج انتظامیہ اسے ڈاکٹر کے طور پر پیش کرتی رہی اور اس سے کلاسز بھی لیتی رہی، سوال یہ ہے کہ 14 برس تک ایسے شخص کو ادارے میں ملازمت پر رکھنے کا ذمہ دار کون ہے ؟ ورثا کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ نے فہمیدہ لغاری کی بہن مہک فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر انصاف کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا، ورثا نے مطالبہ کیا کہ فہمیدہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں، انہوں نے کہا کہ یہ صرف فہمیدہ لغاری کا نہیں بلکہ مستقبل میں دیگر طالبات کو ایسے واقعات سے بچانے کا معاملہ ہے۔