تھرپارکر:میٹھے پانی کی مبینہ فروخت، ایم پی اے انتظامیہ پربرہم
میٹھا پانی فروخت کیا جارہا، قاسم سراج سومرو کی وزیر بلدیات سے بھی شکایتتحقیقاتی کمیٹی تشکیل، قاسم سراج بھی ملانی گروپ کیخلاف کھل کرسامنے آگئے
تھرپارکر(نمائندہ دنیا)تھر میں دریائے سندھ سے پائپ لائن کے ذریعے فراہم کیے جانے والے میٹھے پانی کی مبینہ فروخت کے معاملے پر ننگرپارکر سے منتخب پیپلز پارٹی کے ایم پی اے قاسم سراج سومرو اچانک میونسپل کمیٹی مٹھی کی انتظامیہ پر برس پڑے ۔ ایم پی اے نے گلن جی موری اور پھانگاریو واٹر ٹینک کا دورہ کرنے کے بعد الزام عائد کیا کہ میٹھا پانی ٹینکر مافیا کو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اس حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات کو شکایت بھی کی، جس کے بعد سیکریٹری بلدیات نے اسپیشل سیکریٹری کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری اور سیکشن آفیسر جنرل کو بھی شامل کیا گیا۔ سیاسی حلقوں کے مطابق تھرپارکر میں پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی اور ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے درمیان اختلافات کے بعد اب قاسم سراج سومرو بھی ملاّنی گروپ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ دوسری جانب چیئرمین ڈاکٹر منوج کمار ملاّنی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کا پانی بند نہیں کر سکتے کیونکہ پانی ہر انسان، جنگلی حیات اور مویشیوں کی بنیادی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برس سے قانونی طریقہ کار اور ٹینڈر کے ذریعے ٹینکروں کو دیہی علاقوں کے لیے پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے سامنے تمام حقائق پیش کیے جائیں گے۔