ناقص سروس ، انٹر نیٹ فراہم کرنے والی نجی کمپنی کو 50 ہزار روپے ہرجانہ
کنزیومر پروٹیکشن کورٹ جنوبی نے کمپنی کو 5 ہزار روپے جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا متعدد بار کمپنی کے شکایتی نظام اور کسٹمر سروس کے ذریعے شکایات درج کرائیں لیکن مسئلہ حل نہیں کیا گیا
کراچی (عبدالحسیب خان) کنزیومر پروٹیکشن کورٹ جنوبی نے انٹرنیٹ سروس میں تعطل اور ناقص سہولیات فراہم کرنے کے معاملے میں صارف کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی نجی کمپنی کو صارف کو 50 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے اور 5 ہزار روپے جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی جنوبی کے جج عبدالاحد میمن نے شکایت پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار خلیق احمد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ مدعا علیہ کمپنی کی انٹرنیٹ سروس استعمال کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ماہانہ بل ادا کرتے رہے ہیں، تاہم 7 جنوری 2022 سے انٹرنیٹ سروس مسلسل تعطل، بار بار منقطع ہونے اور خرابی کا شکار رہی جس سے انہیں پیشہ ورانہ اور ذاتی معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار نے متعدد بار کمپنی کے شکایتی نظام اور کسٹمر سروس کے ذریعے شکایات درج کرائیں لیکن مسئلہ مؤثر انداز میں حل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں قانونی نوٹس بھی ارسال کیے گئے جن کے جواب میں کمپنی کی جانب سے موڈم تبدیل کرنے اور سروس بحال کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں، تاہم درخواست گزار کے مطابق سروس کے مسائل برقرار رہے۔
فیصلے کے مطابق کمپنی نے لیگل نوٹس کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ 19 جنوری 2022 کو سروس بحال کر دی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ جواب اس بات کی تائید کرتا ہے کہ 7 جنوری 2022 سے ایک قابل ذکر مدت تک انٹرنیٹ سروس متاثر رہی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے ادائیگی شدہ بلوں، قانونی نوٹسز، کمپنی کے جوابات، شکایات کی تفصیلات اور دیگر دستاویزی شواہد ریکارڈ پر پیش کیے ۔ دوسری جانب مدعا علیہان نے ابتدائی پیشی کے بعد نہ تو تحریری جواب جمع کرایا اور نہ ہی درخواست گزار کے شواہد کو چیلنج کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت کسی بھی سروس میں خرابی، کمی، غیر معیاری کارکردگی یا وعدے کے مطابق سہولت فراہم نہ کرنا سروس میں کمی کے زمرے میں آتا ہے ۔ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش، طویل تعطل اور شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی واضح طور پر ناقص سروس کی مثال ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگرچہ درخواست گزار نے مالی اور پیشہ ورانہ نقصان کا دعویٰ کیا، تاہم اس نقصان کی مخصوص مالیت ثابت کرنے کے لیے الگ دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے گئے ، اس لیے مالی نقصان کا درست تعین ممکن نہیں۔