این جی او میں مبینہ چائلڈ لیبر : ناظر ہائیکورٹ کو ادارے کے معائنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کیئر ٹیکر کی جانب سے رہائشیوں سے زیادتی، قوانین و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور ادارے کے امور کی جانچ کی بھی ہدایت ناظر کو تصاویر بنانے کاحکم ،ادارے کے رہائشیوں کو جواب دہندگان کی جانب سے ہراساں نہ کیا جائے ،سندھ ہائیکورٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کی آئینی عدالت نے این جی او میں مبینہ چائلڈ لیبر، بدسلوکی، غیر قانونی اقدامات، کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی جانچ کے لیے ناظر سندھ ہائیکورٹ کو ادارے کا معائنہ کرکے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ناظر کو ادارے کا معائنہ کرکے مبینہ طور پر کیئر ٹیکر کی جانب سے رہائشیوں کے ساتھ زیادتی، قوانین و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور ادارے کے امور کی جانچ کرنے کی ہدایت کی جبکہ معائنے کے دوران تصاویر بنانے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ادارے کے رہائشیوں کو جواب دہندگان کی جانب سے ہراساں نہ کیا جائے اور ناظر دو ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کرے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ زوہیب ذوالفقار سرکی کے ہمراہ محکمہ سماجی بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان اقبال پیش ہوئے ۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ این جی او کے قانونی رہائشی اور مستفید ہونے والے افراد ہیں، ادارہ محکمہ سماجی بہبود حکومت سندھ کی نگرانی میں فلاحی خدمات فراہم کرتا ہے اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ درخواست میں ادارے کے معاملات کی آزادانہ اور جامع تحقیقات، مبینہ جبری چائلڈ لیبر فوری طور پر بند کرانے ، تمام رہائشی بچوں بالخصوص خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو مناسب غذائیت، صاف پانی اور بروقت ادویات کی فراہمی یقینی بنانے ، مبینہ غیر قانونی گورننگ بورڈ تحلیل کرکے شفاف انتخابات کرانے اور ادارے کے اکاؤنٹس کا تھرڈ پارٹی فارنزک آڈٹ کرانے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے 3 ستمبر 2025 کو متعلقہ فریقین کو قانونی نوٹس کے ذریعے مبینہ بدانتظامی، کرپشن اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا تاہم کوئی کارروائی نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ عدالت نے 6 مئی 2026 کے حکم کے ذریعے فریقین سے ادارے کی صورتحال اور عائد کیے گئے الزامات سے متعلق کمنٹس طلب کیے تھے ، عدالت نے محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ قانونی اعتراضات کے حق کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات کی موجودگی میں ادارے کے معاملات کا موقع پر جائزہ لینا مناسب ہے ، اس لیے ناظر کو مقرر کیا جاتا ہے تاکہ وہ ادارے کا معائنہ کرکے مبینہ زیادتیوں اور خلاف ورزیوں کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرے اور یہ بھی یقینی بنائے کہ ادارے سے متعلق قوانین و ضوابط جن کی پابندی ضروری ہے ، ان پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments