تھرکول سے تیار بجلی پرنیٹ ہائیڈل پرافٹ دینے کا مطالبہ
پختونخوا 1.548، پنجاب کو 1.474روپے فی یونٹ پرافٹ مل رہا، ایم پی اےسندھ کوبھی مساوی حق ملنا چاہئے ، سریندر ولاسائی، قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع
تھرپارکر (نامہ نگار) سریندر ولاسائی نے تھر کول پاور کے مالی فوائد میں سندھ کا جائز حصہ یقینی بنانے کیلئے سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی ہے ، جس میں وفاقی حکومت سے سندھ کیلئے مستقل، شفاف اور منصفانہ مالی معاہدے پر مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کو 1.548 روپے جبکہ پنجاب کو 1.474 روپے فی یونٹ کے حساب سے نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) مل رہا ہے ۔ جب دیگر صوبوں کو بجلی کی پیداوار پر فی یونٹ مالی فائدہ دیا جا سکتا ہے تو سندھ کو بھی اس کے مساوی حق ملنا چاہیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کے کوئلے سے پیدا بجلی پر سندھ کو بھی 1.548 روپے فی یونٹ کے حساب سے مالی فائدہ دیا جائے۔
ان کے مطابق پنجاب کو ملنے والی 1.474 روپے فی یونٹ شرح کے تحت سندھ کو سالانہ تقریباً 24 ارب 24 کروڑ روپے جبکہ خیبرپختونخوا کی 1.548 روپے فی یونٹ شرح کے حساب سے سندھ کو سالانہ تقریباً 25 ارب 45 کروڑ روپے کا مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ تھر کول پاور سے حاصل مالی فوائد سندھ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔ موجودہ رائلٹی کو بجلی کی پیداوار سے منسلک اضافی مالی فوائد کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھرکول پاور سے سندھ کے مالی حقوق کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائے اور تھر کول ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا جائے ، جس سے اضافی آمدنی پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments