جے یوآئی سندھ کا اجلاس، انتقامی کارروائیوں کیخلاف جدوجہد کااعلان
ڈرون فوٹیج، رہنماؤں کونوٹس جاری کرنا غیر قانونی عمل ہے ، مولانا عبدالقیوم ہالیجویضرورت پڑنے پر لاکھوں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی سڑکوں پر نکل سکتی ہیں، خطاب
جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جمعیت علماء اسلام سندھ کے اہم اجلاس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے بعد علامہ راشد محمود سومرو کے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانے ، مفتی اسعد محمود کو نوٹسز، ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ کی رہائشگاہ میں گھس کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال، پنجاب، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں دکانیں سیل کرنے کے اقدامات اور غلط میڈیا ٹرائل کو حکومتی بوکھلاہٹ اور سیاسی انتقامی کارروائیاں قرار دیا گیا۔ اجلاس گلشن شہید میں جے یو آئی سندھ کے امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں ہوا، جس میں علامہ ناصر محمود سومرو، مولانا محمد صالح انڈھڑاور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے فارم 47 کی حکومت، صوبوں کی وحدت، این ایف سی ایوارڈ، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبوں کے معدنی وسائل پر قبضے کی سازشوں کے خلاف آواز اٹھانے پر انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم جے یو آئی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ قائد جمعیت کے حکم پر عدم تشدد کے اصول کے تحت مظاہرے کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر ہائی ویز، موٹرویز اور اہم شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا۔دریں اثنا جے یو آئی سندھ کے قائد علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ میرے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانا غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہے ، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر لاکھوں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی گھروں کی حرمت اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments