زیریں سندھ:گندم کی کاشت شروع، کسان سبسڈی رقم کے منتظر

زیریں سندھ:گندم کی کاشت شروع، کسان سبسڈی رقم کے منتظر

ڈی اے پی، یوریا کھاد خریداری کیلئے مالی معاونت نہ ملنے سے مشکلات ہیں، کاشتکار

پنگریو (نمائندہ دنیا)زیریں سندھ کے اضلاع بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور میرپورخاص سمیت مختلف علاقوں میں گندم کی بوائی جاری ہے ، تاہم کاشتکار فصل کے لیے اعلان کردہ سبسڈی کی رقم کے منتظر ہیں، آبادگاروں کے مطابق بوائی کے اہم مرحلے پر ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی خریداری کے لیے مالی معاونت نہ ملنے سے انہیں مشکلات ہیں، جبکہ کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے باعث چھوٹے کاشتکار بروقت کھاد استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ سندھ حکومت نے رواں سال گندم کے کاشتکاروں کیلئے امدادی پیکیج کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کاشتکاروں کو ڈی اے پی کھاد یا اس کے متبادل کی خریداری کیلئے سبسڈی فراہم کی جانی ہے ۔ اس پیکیج کے لیے تقریباً 14 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ فوڈ ڈپارٹمنٹ کو گندم فراہم کرنے والے کاشتکاروں کیلئے اضافی سبسڈی بھی ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے فی من مقرر کی گئی ہے ۔ حکومتی اعلان کے مطابق امدادی پروگرام سے سندھ کے تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار کاشتکار مستفید ہوں گے اور رقم بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے سندھ بینک کے توسط سے منتقل کی جائے گی۔ محکمہ زراعت سندھ نے 11 اکتوبر کو پروگرام کے تحت کاشتکاروں کی رجسٹریشن شروع کرنے کی اطلاع دی تھی، تاہم زیریں سندھ کے آبادگاروں کے مطابق تاحال سبسڈی کی رقم ان تک نہیں پہنچی۔ کاشتکار تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی رقم فوری منتقل کی جائے تاکہ گندم کی بوائی کے اہم مرحلے پر کھاد کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے اور فصل کی پیداوار متاثر ہونے سے بچائی جاسکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...