امریکی واسرائیلی الیکشن، صیہونی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، تنظیم اسلامی
اقتدار کسی بھی جماعت کے پاس ہو، مسلمانوں کیخلاف انکے دجالی فتنے جاری رہتے ہیںمسلمان بیرونی قوتوں سے امید کے بجائے اتحاد، اجتماعی قوت پرتوجہ دیں ، شجاع الدین
دادو (ڈسٹرکٹ ڈیسک)امریکہ اور اسرائیل کے انتخابی نتائج سے صیہونی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔اُمّتِ مسلمہ بیرونی قوتوں سے امیدوں کے بجائے اتحاد، خودمختاری اور اجتماعی قوت پر توجہ دے ۔ امیرتنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست امریکی داخلی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی عکاس تو ہو سکتی ہے ، تاہم امریکہ اور اسرائیل میں انتخابی نتائج یا حکمران جماعتوں کی تبدیلی سے فلسطین اور غزہ سمیت مسلم دنیا کے حوالے سے اُن کی پالیسیوں میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئے گی۔ اِن ممالک میں اقتدار کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ہو، اُن کی خارجہ پالیسی اور مسلم دنیا کے حوالے سے دجالی منصوبے جاری رہتے ہیں۔
لہٰذا محض کسی حکمران یا جماعت کی شکست پر خوشیاں منانے کے بجائے ہمیں اصل حقائق اور پس پردہ قوتوں کے مقاصد کا ادراک رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی جماعت کو شکست دینے والے عناصر کے ماضی اور موجودہ موقف کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہاں بھی فلسطینیوں کی نسل کُشی، غزہ کو تباہ کرنے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے حوالے سے کوئی بنیادی اختلاف نہیں۔ مسلم دنیا کے معاملات، اسرائیل کی حمایت اور خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال میں دونوں امریکی جماعتیں ایک ہی صفحے پر ہوتی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی عوام کے ایک طبقے نے امریکہ غیر معمولی توقعات وابستہ کیں، لیکن ان توقعات کے باوجود پاکستان کو ڈرون حملوں اور دیگر امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments