باغ جناح: 2ہرنوں کی موت جسم میں پانی کی کمی سے ہوئی
دونوں جانور شدید دباؤ کاشکارتھے ، ویٹرنری یونیورسٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )جناح باغ لاہور میں دو ہرنوں کی ہلاکت کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق دونوں جانور شدید دباؤ اور ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھے ۔ایک بالغ مادہ ہرن کے پیٹ میں دو ماہ کا بچہ بھی موجود تھا۔ لاہور کے تاریخی تفریحی مقام جناح باغ میں دو ہرنوں کی ہلاکت کے بعد جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہرن تقریباً پانچ سالہ بالغ مادہ تھی جبکہ دوسرا لگ بھگ پانچ ماہ کا کم عمر جانور تھا۔
بالغ مادہ ہرن کے رحم میں دو ماہ کا بچہ موجود ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے ، جس سے واقعے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ اندرونی جائزے میں پیٹ میں ہلکے زرد رنگ کے سیال مادے کی موجودگی نوٹ کی گئی۔ گردوں میں پیٹی کیئل ہیمرجز، جگر اور پھیپھڑوں میں واضح کنجیشن جبکہ تلی کے بڑھنے اور آنتوں کی جھلیوں میں سوزش کے آثار بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ رومن خوراک سے بھرا ہوا پایا گیا۔یوں جناح باغ میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف جنگلی حیات کی نگہداشت کے نظام پر سوال اٹھا رہا ہے بلکہ متعلقہ انتظامی اقدامات کی ضرورت کو بھی اجاگر کر رہا ہے ۔