بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم کیلئے ویکا ایپ منصوبہ تاخیر کاشکار
2025 میں منظوری اور ایس او پیز کی تیاری کے باوجود چالان کا نظام روایتی طریقے سے چل رہا ،جدید نظام پر سوالیہ نشانبہتر ٹریفک مینجمنٹ کے اہداف حاصل کیے جانے تھے ، منصوبے میں تاخیر نے ٹرانسپورٹ ریفارمز کی رفتار کو متاثر کیا
لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب میں کرپشن کے خاتمے اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے متعارف کرایا جانے والا ویکا ایپ منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جولائی 2025 میں منظوری اور ایس او پیز کی تیاری کے باوجود چالان کا نظام بدستور روایتی طریقہ کار پر چل رہا ہے ، شفافیت، ڈیجیٹل ریکارڈ اور مانیٹرنگ کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو سکے ، جبکہ ڈبل چالان کے خاتمے اور احتساب کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکا، پنجاب میں گاڑیوں کی چیکنگ اور چالان کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ویکا ایپ متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، مگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ نظام فعال نہ ہو سکا۔حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے دعوے کیے گئے تھے ، جن کے تحت ہر گاڑی کی تفصیلات، چالان ریکارڈ اور مانیٹرنگ کو آن لائن لانے کا ہدف مقرر کیا گیا، تاہم عملی طور پر روڈ چیکنگ آج بھی مینوئل طریقے سے جاری ہے ۔ایس او پیز کی منظوری کے باوجود متعلقہ محکمے مؤثر عملدرآمد میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف شفاف چالان سسٹم متعارف نہ ہو سکا بلکہ ڈبل چالان جیسے مسائل کے خاتمے کا وعدہ بھی ادھورا رہ گیا۔ویکا ایپ کے ذریعے شفافیت، احتساب اور بہتر ٹریفک مینجمنٹ کے اہداف حاصل کیے جانے تھے ، تاہم منصوبے میں تاخیر نے ٹرانسپورٹ ریفارمز کی رفتار کو متاثر کیا ہے اور جدید نظام کے نفاذ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔دوسری جانب حکام کی جانب سے احکامات اور ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود فیلڈ میں روایتی طریقہ کار ہی اپنایا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف حکومتی پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان خلا واضح ہوتا ہے بلکہ متعلقہ افسران کی کارکردگی بھی زیر بحث آ گئی ہے ۔