ٹریفک روانی کیلئے بڑے پارکنگ منصوبے تیار کرنے کا فیصلہ

ٹریفک  روانی  کیلئے  بڑے پارکنگ منصوبے تیار  کرنے کا فیصلہ

20سے زائد پارکنگ پلازوں کی تعمیر آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان،لاہور میں زیرزمین پارکنگ پلازوں کی تعداد7 تک پہنچ جائے گی اندرون لاہور، والڈ سٹی اور مصروف کاروباری علاقوں میں جدید انڈر گراؤنڈ اور سمارٹ پارکنگ سسٹمز متعارف کرانے کی تیاریاں بھی شروع ،متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے تجاویز طلب

لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب حکومت نے پارکنگ مسئلے کے مستقل حل کے لیے بڑے پیمانے پر پارکنگ انفراسٹرکچر تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ،اندرون لاہور، والڈ سٹی اور مصروف کاروباری علاقوں میں جدید انڈر گراؤنڈ اور سمارٹ پارکنگ سسٹمز متعارف کرانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں،ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبے بھر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ، غیر قانونی پارکنگ اور بازاروں میں بدترین ٹریفک جام کے مستقل خاتمے کے لیے بڑے منصوبے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ہدایت پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں پارکنگ پلازوں کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ آئندہ مالی سال کو پارکنگ پلازوں کی تعمیر کا سال قرار دیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔لاہور میں زیرزمین پارکنگ پلازوں کی مجموعی تعداد سات تک پہنچ جائے گی جبکہ ٹیپا کے زیر انتظام دو پارکنگ پلازوں پر پہلے ہی تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے ۔

بھاٹی گیٹ کے مقام پر ایک نئے پارکنگ پلازہ کی تعمیر کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے ، جبکہ اندرون لاہور دو مزید پارکنگ پلازے مختلف مراحل میں زیر تعمیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ والڈ سٹی کے مزید دو مقامات پر بھی پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ والڈ سٹی اتھارٹی کو متعلقہ اراضی کی نشاندہی، فزیبلٹی اور ابتدائی تکنیکی ورک مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق منصوبوں کی انجینئرنگ، ڈیزائننگ اور تعمیراتی ذمہ داریاں ایل ڈی اے کو سونپ دی گئی ہیں،صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر پرانے اور ہیریٹیج شہروں میں بھی پارکنگ پلازوں کی تعمیر کے لیے جامع پلان تیار کیا جا رہا ہے ۔ پارکنگ مسائل سے دوچار شہروں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں ۔ذرائع کے مطابق بیس سے زائد پارکنگ پلازوں کی تعمیر آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔ تمام منصوبے متعلقہ اتھارٹیز، ضلعی حکومتوں اور تکنیکی اداروں کی سفارشات کی روشنی میں فائنل کیے جائیں گے ، جبکہ تجاویز منظوری کے لیے لاہور اتھارٹی کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ منصوبوں کی حتمی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں فنڈز مختص کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں