بجٹ میں نظرانداز واسا ماسٹر پلان کے اہم منصوبے کھٹائی میں پڑگئے
شہر کے بڑھتے دبائو کے باوجود سیوریج نظام 7سال سے عملدرآمد کا منتظر، منصوبے فائلوں تک محدودہوکر رہ گئےٹرنک سیوریج سسٹم تنصیب کیلئے 20 ارب لاگت کا تخمینہ تھا، سپلیمنٹری گرانٹ کی استدعا کردی:واسا انتظامیہ
لاہور (شیخ زین العابدین) لاہور شہر کے سیوریج نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے دعوے اب بھی کاغذی منصوبوں سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ واسا کے ماسٹر پلان 2040 میں شامل اہم منصوبے 7سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کر سکے ۔ گنجان آباد علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے بجٹ کا حصہ نہ بن سکے ۔ جبکہ شہر کے بڑھتے دباؤ نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں آبادی کے پھیلاؤ، بلند بالا عمارتوں اور شہری ضروریات میں اضافے کے ساتھ سیوریج نظام کی استعداد بڑھانے کیلئے تیار کیا گیا واسا ماسٹر پلان 2040 سات سال بعد بھی مکمل عملدرآمد کا منتظر ہے ۔سال 2019 میں ماسٹر پلان کی منظوری کے بعد شہر کے اہم علاقوں میں سیوریج انفراسٹرکچر کی تبدیلی کے لیے متعدد منصوبے تجویز کیے گئے تھے ، تاہم ان منصوبوں کو حکومتی سطح پر باقاعدہ منظوری نہ مل سکی اور نہ ہی انہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔
ماسٹر پلان میں گلبرگ، فیروز پور روڈ اور جناح ہسپتال کے اطراف ٹرنک سیوریج سسٹم بچھانے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا تاکہ شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے ، مگر منصوبے فائلوں سے باہر نہ آ سکے ۔واسا کی جانب سے ٹرنک سیوریج سسٹم کی تنصیب کیلئے تقریباً 20 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم منصوبوں پر بروقت پیشرفت نہ ہونے کے باعث تعمیراتی اخراجات میں مزید اضافہ ہونے لگا۔گلبرگ میں ہائی رائز عمارتوں کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر وہاں سیوریج نظام کی استعداد بہتر بنانے کے لیے 4ارب 76 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح کینال روڈ پر شاہ دی کھوئی سے ٹھوکر نیاز بیگ تک سیوریج سسٹم کی بہتری کے لیے ایک ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔فیروز پور روڈ کے سیوریج انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے 11 ارب ب92 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ بھی تیار کیا گیا، تاہم ان منصوبوں کے لیے نہ سرکاری فنڈز دستیاب ہو سکے اور نہ ہی کسی غیر ملکی گرانٹ سے معاونت حاصل ہو سکی۔دوسری جانب گنجان آباد علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے بجائے واسا نے اپنی ترجیحات نواحی علاقوں کی جانب منتقل کر دیں، جبکہ ماسٹر پلان میں شامل اہم سکیمیں مسلسل انتظار کی کیفیت سے دوچار ہیں۔واسا انتظامیہ کے مطابق منصوبوں کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ کی استدعا کی گئی ہے ۔